உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    موت کے 22 دن بعد قبر کھود کر نکالی گئی خاتون کی لاش ، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران

    پولیس کا کہنا ہے کہ جانکاری دئے بغیر دونوں فریقوں نے سمجھوتہ کرکے لاش کو دفن کردیا تھا ۔ لیکن اس کے بعد مرنے والی خاتون کی ماں نے قتل کا الزام لگا کر عدالت میں مقدمہ چلانے کی عرضی داخل کی تھی ، جس کے بعد ڈی ایم کی ہدایت کے بعد لاش قبر سے باہر نکالی گئی ۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جانکاری دئے بغیر دونوں فریقوں نے سمجھوتہ کرکے لاش کو دفن کردیا تھا ۔ لیکن اس کے بعد مرنے والی خاتون کی ماں نے قتل کا الزام لگا کر عدالت میں مقدمہ چلانے کی عرضی داخل کی تھی ، جس کے بعد ڈی ایم کی ہدایت کے بعد لاش قبر سے باہر نکالی گئی ۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جانکاری دئے بغیر دونوں فریقوں نے سمجھوتہ کرکے لاش کو دفن کردیا تھا ۔ لیکن اس کے بعد مرنے والی خاتون کی ماں نے قتل کا الزام لگا کر عدالت میں مقدمہ چلانے کی عرضی داخل کی تھی ، جس کے بعد ڈی ایم کی ہدایت کے بعد لاش قبر سے باہر نکالی گئی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      اترپردیش کے ہردوئی ضلع میں پیر کو ایک شادی شدہ خاتون کی لاش قبر کھود کر باہر نکالی گئی اور پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دی گئی ۔ مرنے والی خاتون کے مائیکہ والوں کا الزام ہے کہ سسرال والوں نے خاتون کا قتل کرکے ثبوت چھپانے کیلئے اس کی لاش کو جلد بازی میں دفن کردیا ۔ خاتون کے مائیکہ والوں نے سینئر افسران سے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کی فریاد کی تھی ، جس کے بعد آج پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کی موت کے 22 دنوں کے بعد لاش کو قبر سے باہر نکالا ۔

      بتادیں کہ ہردوئی کے بلگرام کوتوالی حلقہ میں ڈی ایم کی ہدایت کے بعد قبر سے ایک خاتون کی لاش نکالی گئی اور اس کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا گیا ۔ مرنے والی خاتون کے مائیکہ والوں نے جہیز کیلئے خاتون کا قتل کرکے اس کی لاش غائب کرنے کا الزام لگایا تھا اور 156 ( تین) سی آر پی سی کے تحت عدالت میں ایک عرضی داخل کی تھی ۔ بلگرام کوتوالی کے محلہ تبولہ میدان پورہ کی رہنے والی نازنین کی 24 اگست کو جل کر موت ہوگئی تھی ۔

      خاتون کے مائیکہ والوں نے سینئر افسران سے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کی فریاد کی تھی ۔
      خاتون کے مائیکہ والوں نے سینئر افسران سے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کی فریاد کی تھی ۔


      حالانکہ اس معاملہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ جانکاری دئے بغیر دونوں فریقوں نے سمجھوتہ کرکے لاش کو دفن کردیا تھا ۔ لیکن اس کے بعد مرنے والی خاتون کی ماں نے قتل کا الزام لگا کر عدالت میں مقدمہ چلانے کی عرضی داخل کی تھی ، جس کے بعد ڈی ایم کی ہدایت کے بعد لاش قبر سے باہر نکالی گئی ۔

      مرنے والی خاتون کی ماں کے مطابق ان کی 27 سالہ بیٹی نازنین کو اس کے سسرال والوں نے جہیز کا اضافی مطالبہ کو پورا نہیں کرنے کی وجہ سے زندہ جلا کر مار دیا اور اہل خانہ کو اطلاع دئے بغیر لاش کو کہیں غائب کردیا ۔ ماں نے الزام لگایا کہ سسرال والے شادی کے فورا بعد سے ہی ایک بلیٹ بائیک اور ایک لاکھ روپے کیش دینے کا اضافی مطالبہ کرنے لگے ، جو پورا نہیں کرپانے کی وجہ سے نازنین کو اس کے سسرال والے پریشان کررہے تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: