உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اعظم خان کی رہائی کے مطالبوں میں شدت، سیاسی اور سماجی سطح پر اٹھ رہی ہیں آوازیں

    سیاسی مبصرین یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر اعظم خاں کےلئے خود کو سماج وادی کہنے والے لوگ سنجیدہ ہوتے تو آج ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔

    سیاسی مبصرین یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر اعظم خاں کےلئے خود کو سماج وادی کہنے والے لوگ سنجیدہ ہوتے تو آج ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔

    • Share this:
    مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے بانی سماج وادی پارٹی کے اہم لیڈر محمد اعظم خاں کی رہائی کے لئے اٹھنے والی آوازیں شدید ہوتی جارہی ہیں یہ آنے والے اسمبلی الیکشن کی دستک ہے۔ سماج وادی پارٹی کی حکمت عملی یا عوام کی بیداری ؟ سوالات کئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اعظم خاں کے سیاسی قد اور سیاسی خدمات کے لحاظ سے ان کی گرفتاری سے لے کر اب تک سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پارٹی اراکین کا جو نام نہاد خاموش رد عمل سامنے آیا ہے وہ چونکانے والا ہے اور سماج وادی پارٹی کے کئی اہم وزیروں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جب سماج وادی پارٹی کا اہم ستون تصور کئے جانے والے اعظم خاں کے ساتھ پارٹی کا رویہ یہ ہے تو باقی لیڈروں ، عہدیداروں اور ورکروں کی کیا حیثیت اور اہمیت ہو سکتی ہے۔ حالانکہ یہاں بات بھی اہم ہے کہ اعظم خاں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور دیگر لوگوں کی سرد مہری کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی گئی لیکن سماج میں عام طور پر یہ محسوس کیا جارہاہے کہ برے وقت میں سماج وادی پارٹی نے اعظم خاں اور ان کے خاندان کو تنہا چھوڑ دیا۔

    اس خیال سے مکمل طور پر اتفاق نہ بھی کیا جائے تو اس میں دو رائے نہیں کہ جس انداز کی تحریکات اعظم خاں کے لیے سیاسی سطح پر چلنی چاہئے تھیں وہ نہیں چلائی گئیں یا نہیں چل سکیں۔ نتیجہ سامنے ہے کہ اعظم خاں چھوٹے بڑے پچاسوں مقدموں اور سیکڑوں الزامات کے ساتھ آج سیتا پور جیل میں قید ہیں ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے بلکہ یوں کہا جائے کہ بیمار اعظم خاں کی قابل رحم اور تشویش ناک تصویریں وائرل ہونے کے بعد اعظم خاں کی رہائی اور جوہر یونیورسٹی کے تحفظ کے لئے آوازیں اٹھنا شروع ہوئی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کچھ طلبا نے گزشتہ دنوں باقاعدہ اپنے سینئر اور محبوب لیڈر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اتر پردیش پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ اعظم خاں سے سیاسی انتقام لینے کے لئے نہ صرف متعصبانہ روش اختیار کی گئی بلکہ کئی جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ان کا اور ان کے بچوں کا سیاسی کیرئر ہی ختم کردیا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں اس یونیورسٹی کو بھی تباہ و برباد کیا گیا جس سے ہزاروں بچوں کا مستقبل وابستہ تھا۔

    کئی اہم سیاسی و سماجی لوگوں کا ماننا ہے کہ اعظم خاں سے انتقام لےنے کے لئے موجودہ سیاسی نظام نے ایک بڑے تعلیمی نظام اور مشن کو اپنی نفرت اور تنگ ذہنی کے سبب تباہ کردیا اور سماج وادی ہارٹی کے سربراہ سمیت سبھی لیڈر و اراکین تماشائی بن کر رہ گئے۔۔معروف دانشور ، سیاسی تجزیہ کار اور سماج وادی پارٹی کے ترجمان حفیظ گاندھی نے اعظم خاں کی رہائی کے لئے آواز بلند کرتے ہوئے ریاست اتر پردیش کے گورنر کو اے ڈی ایم پٹیالی کے توسط سے ایک میمورنڈم ارسال کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے جوہر یونیورسٹی کی تعمیر و تعلیمی نظام کو نقصان نہ پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ حفیظ گاندھی مثبت اور تعمیری سیاست میں یقین رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کسی تعلیمی ادارے یا یونیورسٹی کا نقصان صرف اعظم خاں یا کسی مخصوص لیڈرکا نقصان نہیں بلکہ پورے سماج ریاست اور ملک کا نقصان ہے کیونکہ تعلیمی اداروں میں کسی ایک مذہب یا خطے کے نہیں بلکہ سبھی دھرموں کے طلبا و طالبات اپنے مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں۔

    مرادآباد سے سماج وادی پارٹی کے ممبر آف پارلیمنٹ ایچ ٹی حسن نے بھی لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کر اعظم خاں کی رہائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے وہ جیل سے باہر آکر اپنا علاج صحیح طور پر کرا سکیں۔ اب سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی یہ اعلان کردیا ہے کہ پانچ اگست کو لکھنئو میں حکومت اتر پردیش کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے اور اعظم خاں کی رہائی کے مطالبے کے لئے سائکل یاترا نکالی جائے گی۔ سیاسی مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اب اعظم خان کے حق میں اٹھنے والی آوازیں صرف اعظم خاں کے لیے نہیں بلکہ آئندہ اسمبلی الیکشن کا ماحول بنانے کےلئے ہیں ۔۔اعظم خاں کتنے گنہگار ہیں اور ان کو انصاف کب ملے گا یہ تو عدالت طے کرے گی لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ سماج وادی پارٹی کے سرپرست اور سربراہ نے بھی اعظم خاں کے ساتھ شاید مناسب سلوک نہیں کیا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: