ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ڈاکٹروں نے قرار دیا مردہ، آخری رسوم کی تیار ہورہ تھی کہ آدھی رات کو بیٹی بولی، پاپا ہل رہے ہیں، چادر ہٹا کر دیکھا تو دیکھا کچھ ایسا۔۔۔۔

اترپردیش کے سلطان پور ضلع میں محکمہ صحت کی بڑی لاپرواہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ڈاکٹروں نے ایک زندہ شخص کو مردہ قرار دے دیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ آپ کو بھی حیران کر دے گا۔

  • Share this:
ڈاکٹروں نے قرار دیا مردہ، آخری رسوم کی تیار ہورہ تھی کہ آدھی رات کو بیٹی بولی، پاپا ہل رہے ہیں، چادر ہٹا کر دیکھا تو دیکھا کچھ ایسا۔۔۔۔
اترپردیش کے سلطان پور ضلع میں محکمہ صحت کی بڑی لاپرواہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ڈاکٹروں نے ایک زندہ شخص کو مردہ قرار دے دیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ آپ کو بھی حیران کر دے گا۔

سلطان پور۔ اترپردیش کے سلطان پور ضلع میں محکمہ صحت کی بڑی لاپرواہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ڈاکٹروں نے ایک زندہ شخص کو مردہ قرار دے دیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ آپ کے بھی ہوش اڑا دے گا۔ ڈاکٹروں کے اس اعلان کے بعد کنبے میں ماتم پسر گیا اور سبھی روتے ہوئے لاش کے ساتھ گھر واپس آ گئے اور لاش کو چلر پر رکھ دیا تبھی اچانک لاش پر لپٹی چادر میںحرکت ہوئی تب گھر والے حیران ہوگئے۔ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ فورا محلے کے ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ چیک کرنے پر نبض اور آکسیجن دونوں لا لیول ٹھیک تھا۔ رونے والے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ فوری طور پر ایک ایمبولینس طلب کی گئی اور اس شخص کو چلر سے اٹھا کر علاج کے لئے لکھنؤ لے جایا گیا۔ حالانکہ تقریبا 7 گھنٹے کے بعد مریض کی موت ہوگئی۔


کوتوالی نگر علاقہ کے دریاپور علاقے کے رہنے والے عبد المعبود (50 سالہ) کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ عبد المعبود کے بھائی کی اہلیہ شاہدہ بانو کا کہنا ہے کہ جیٹھ کو آکسیجن کی ضرورت تھی۔ انہیں سرکاری اسپتال لے گئے۔ بہتکہنے کے بعد 3-4 انجیکشن لگائے گئے تھے۔ اس کے بعد بھی مریض الجھن تھی۔ جب آکسیجن کا مطالبہ کیا گیا تو ڈاکٹر یہ کہتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا کہ آکسیجن سلینڈر خالی نہیں ہے۔


چیسٹ پمپ کیا، کوئی حرکت نہیں ہوئی۔۔

شاہدہ نے مزید بتایا کہ جب مریض کو سکون نہ ملا تو پھر انہیں سرکاری اسپتال سے پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ان کی پلس ریٹ بیٹھ گئی تھیں، آکسیجن کی سطح بھی نیچے تھی۔ ڈاکٹر نے مریض کو نجی اسپتال میں داخل کرنے سے انکار کردیا۔ ڈاکٹر نے کہا جہاں آکسیجن موجود ہو وہاں مریض کو لے جائیں۔ مجبورا پھر سے سرکاری اسپتال لیکر جانا پڑا۔ سرکاری اسپتال میں سینے پر پمپ لگانے کے بعد جب کوئی حرکت مریض میں نہیں ہوئی تو ڈاکٹر نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

بیٹی ثنا نے ہلتے دیکھی چادر
وہیں اس بات نے تب سب کو حیران کر دیا جب لاش کو لیکر گھر آئے اور رشتے دار بھی موت خی خبر سن کر جمع ہو گئے۔ آخری رسوم کی تیاری شروع کر دی گئی تھیں۔ اس لئے لاش کو چلر لاکر اس میں رکھ دیا گیا۔ رات کو تقریبا باپ کے پاس بیٹھی بیٹی نے دھیرے۔دھیرے چادر ہلتی دیکھی اس نے ماں کو یہ بتایا پھر جس فریزر میں رکھا گیا تھا اس کو ہٹوایا گیا جب چیک اپ کیا تو سانس چل رہی تھی۔

بھائی معشوق بتاتے ہے ہیں کہ جب یہ بات سامنے آئی تو میں ہم نے فورا چادر ہٹاکر پنچ کیا تو دل کی دھڑکن محسوس ہوئی پھر منھ سے ہوا دی۔ تب ڈاکٹر آگئے تھے انہوں نے چیک کیا تو نبض چل رہی تھی فورا ایمبولینس بلاکر انہیں لکھنؤ اسپتال بھیجا گیا لیکن اگلے دن صبح میں ان کی موت ہوگئی۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 12, 2021 01:16 PM IST