உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh: زمین مافیاؤں کے بڑھتے حوصلے، بلڈوزر کی کارروائی اور پریشان لوگ 

    اتر پردیش میں بابا کا بلڈوزر تو مسلسل چل رہاہے لیکن کچھ علاقوں میں زمین مافیا ابھی بھی بے خوف ہیں نہ انہیں آئین و قانون کا کوئی ڈر ہے اور نہ غریب عوام و کسان کی پریشانیوں کا  احساس، بڑا سبب یہ ہے کہ کچھ سرکاری ملازمین ہی حکومت کی تحریکات اور وزیر اعلیٰ کے مشن کو کمزور کررہے ہیں۔

    اتر پردیش میں بابا کا بلڈوزر تو مسلسل چل رہاہے لیکن کچھ علاقوں میں زمین مافیا ابھی بھی بے خوف ہیں نہ انہیں آئین و قانون کا کوئی ڈر ہے اور نہ غریب عوام و کسان کی پریشانیوں کا احساس، بڑا سبب یہ ہے کہ کچھ سرکاری ملازمین ہی حکومت کی تحریکات اور وزیر اعلیٰ کے مشن کو کمزور کررہے ہیں۔

    اتر پردیش میں بابا کا بلڈوزر تو مسلسل چل رہاہے لیکن کچھ علاقوں میں زمین مافیا ابھی بھی بے خوف ہیں نہ انہیں آئین و قانون کا کوئی ڈر ہے اور نہ غریب عوام و کسان کی پریشانیوں کا احساس، بڑا سبب یہ ہے کہ کچھ سرکاری ملازمین ہی حکومت کی تحریکات اور وزیر اعلیٰ کے مشن کو کمزور کررہے ہیں۔

    • Share this:
    اتر پردیش کی یوگی سرکار میں زمینی مافیاؤں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے سرکاری زمینوں اور جائیدادوں کو ان کے ناجائز اور غیر قانونی قبضہ سے آزاد کرانے کی مہم مسلسل جاری ہے۔ مختلف علاقوں سے ابھی تک ہزاروں کروڑ کی سرکاری زمین ۔زمین مافیاؤں سے خالی کرالی گئی ہے۔ بابا کے بلڈوزر کا اتنا اثر اور اتنا خوف بڑھا ہے کہ کچھ مقامات پر لوگوں نے اپنی ناجائز عمارتیں خود ہی منہدم کرنی شروع کردی ہیں ۔۔لیکن کچھ علاقے ابھی ایسے بھی ہیں جہاں لوگوں کو نہ آئین و دستور اور قانون کا کوئی پاس ہے اور نہ بابا کے بلڈوزر کا کوئی خوف بلکہ وہ کھلے عام یہی کہتے ہیں کہ یہاں اور کسی کی نہیں بلکہ ہماری حکومت چلتی ہے ان زمینی مافیاؤں سے نہ صرف سرکاری ملازمین پریشان ہیں بلکہ امن۔پسند کسان بھی خوف و ہراس اور تشویش میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ایسے ہی ناجائز قبضے کا ایک معاملہ موضع رام نگر، تھانہ پچپڑوا پرگنہ تحصیل بلرام پور کا ہے جہاں سماج وادی پارٹی کے با اثر لوگوں سے مل کر کچھ زمین مافیاؤں نے سرکاری زمین پر ناجائز تعمیرات کرکے مقامی کسانوں کے لئے سنگین مسائل پیدا کردئے ہیں جس سے نہ امن پسند کسان اپنی زمین اپنے کھیت جوت پارہے ہیں اور راستے بند کئے جانے کے سبب نہ کوئی دوسرا کام ہی کرپارہے ہیں۔

    بلرام پور میں تلسی پور سے بڑھنی جانے والے ہائی وے سے متصل پی ڈبلیو ڈی روڈ کے گاٹانمبر چار سو انیس ۴۱۹ اور چارسو بیس ۴۲۰ پر چند زمین مافیاؤں نے ناجائز قبضہ کرکے کسانوں کو انکی اپنی کاشت کی زمین اور کھیتوں تک پہنچنے کے راستے بند کر دئے ہیں۔ ناجائز اور غیر قانونی طور پر کچی پکی تعمیر کرنے اور مویشی بناندھنے والے ان لوگوں پر نہ یوگی جی کے ذریعے چلائ جارہی تحریکات کا کوئی اثر ہے اور نا بلڈوزر کا کوئی خوف ، بھومافیا رام اوتار اور دھرم پال سے جب بوڑھےمقامی کسان محمد عمر نے سرکاری زمین سے ناجائز قبضہ ہٹانے اور اپنی زمین کا راستہ خالی کرنے کے لئے کہا تو بدلے میں نہ صرف گالی گلوچ کی گئی بلکہ جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ یہاں بابا کی نہیں ہماری حکومت چلتی ہے ۔

    Target Killing سے نمٹنے کیلئے وزارت داخلہ کی اہم میٹنگ، امت شاہ نے خود سنبھالا مورچہ

    حیرت کی بات یہ ہے کہ سہ ۲۰۱۷ دوہزار سترہ سے اب تک پریشان کسانوں اور لوگوں کی جانب سے کئی درخواستیں دی گئیں سرکاری ملازمین کی تحقیق اور معائنے کے بعد ناجائز قبضہ بھی ثابت ہوا لیکن زمین مافیاؤں کے قبضے ابھی تک نہیں ہٹائے جاسکے ۔محمد عمر ،شاہد خان اور دوسرے کسانوں کا ماننا ہے کہ اگر یوگی جی کے راج میں بھی یہ قبضے نہیں ہٹائے گیے تو زمین مافیاؤں کے حوصلے اور بڑھ جائیں گے۔

    اس سلسلے میں بلرام پور کی ڈی ایم سُرتی سنگھ سے بھی تحریری طور پر یہ درخواست کی گئی ہے کہ غیر قانونی لوگوں کے ذریعے سرکاری زمینوں اور راستوں پرناجائز طور پر کئے گیے قبضوں کو ہٹا کر مقامی لوگوں اور کسانوں کو انصاف دلانے کا کام کریں ۔۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ابھی تک سرکاری افسران کے ذریعے کسانوں اور زمین کے حقیقی مالکان کو یہ یقین دہانی تو مسلسل کرائی جارہی ہے کہ ان زمینی مافیاؤں کو جلد سبق سکھایا جائے گا لیکن عملی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب نتیجہ صفر ہے ۔ محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی بھی کچھ سرکاری افسر یاتو وزیر اعلیٰ اتر پردیش کی تحریکات کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتے یا پھر انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے یوگی مشن کو پسِ پشت ڈال کر حکومت کو بدنام کرنے والے لوگوں کی مدد اور حمایت کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے ، شاہد خاں کہتے ہیں کہ ضلع مجسٹریٹ سُرتی سنگھ جی ایماندار اور منصف مزاج افسر ہیں اس لئے ان سے یہ امید ہے کہ وہ اس ضمن میں ضرور ٹھوس قدم اٹھائیں گی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: