உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہاپوڑ میں بڑا حادثہ: کیمیکل فیکٹری میں Boiler Blast سے 8 مزدوروں کی موت، سی ایم یوگی نے ظاہر کیا غم

    Hapur Boiler Blast:   اس واقعے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ اس وقت راحت اور بچاؤ کا کام کیا جا رہا ہے۔

    Hapur Boiler Blast: اس واقعے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ اس وقت راحت اور بچاؤ کا کام کیا جا رہا ہے۔

    Hapur Boiler Blast: اس واقعے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ اس وقت راحت اور بچاؤ کا کام کیا جا رہا ہے۔

    • Share this:
      Hapur Boiler Blast:  یوپی کے ہاپوڑ ضلع میں ایک کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے آٹھ مزدوروں کی موت کی خبر سامنے آئی ہے۔ ساتھ ہی اس واقعے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ اس وقت راحت اور بچاؤ کا کام کیا جا رہا ہے۔

      وہیں یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ہاپوڑ ضلع میں بوائلر پھٹنے سے لگنے والی آگ میں  مزدوروں کی موت پر گہرے غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرنے والوں کے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے آئی جی اور کمشنر سمیت تمام اعلیٰ حکام کو فوری طور پر موقع پر پہنچ کر واقعے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کے مناسب علاج کی ہدایات بھی دی ہیں۔

      PLEASE بچوں کے علاج کیلئے دونوں کو ویزا دیں، پاکستانی والدین کی ہندستان سے گہار

      Shaan Tribute to KK: لائیو ایوینٹ میں شان کا KK کو خراج عقیدت، دوستی کو یاد کر ہوئے جذباتی

      یہ فیکٹری ہاپوڑ کے دھولانہ تھانہ علاقے میں ہے۔
      یہ حادثہ ہاپوڑ ضلع کے دھولانہ تھانے کے UPSIDC میں پیش آیا جپ۔ اس کے ساتھ ہی سی ایم یوگی کے حکم کے بعد میرٹھ کے آئی جی پروین کمار اور ہاپوڑ ڈی ایم سمیت کئی اہلکار موقع پر موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اب تک 15 سے زائد افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جن میں سے بعض کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ اس وقت کئی ایمبولینسیں اور لاشیں موقع پر موجود ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: