உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش : کیا سیاسی مفاد کے لیے پھر بڑھائی جا رہی ہے فرقہ وارانہ کشیدگی ؟

    اترپردیش : کیا سیاسی مفاد کے لیے پھر بڑھائی جا رہی ہے فرقہ وارانہ کشیدگی ؟

    اترپردیش : کیا سیاسی مفاد کے لیے پھر بڑھائی جا رہی ہے فرقہ وارانہ کشیدگی ؟

    اتر پردیش میں جس انداز کی وارداتیں رونما ہورہی ہیں ، جس طرح کے سیاسی بیانات سامنے آرہے ہیں وہ بھلے ہی مُٹّھی بھر تشدد پسند فرقہ پرست لوگوں کے لئے مفید ہوں لیکن امن پسند شہریوں کے لئے قطعی مناسب نہیں ہیں ۔

    • Share this:
    لکھنئو : کیا واقعی اتر پردیش کے آئندہ اسمبلی الیکشن کے پیش نظر بی جے پی اپنی پرانی تحریکوں منصوبوں اور قدروں کی طرف لوٹ رہی ہے ؟ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ اقلیتی طبقے کے اہم علماء دانشور اور عام لوگ تو واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک منصوبہ بند سازش اور حکمت عملی کے تحت بی جے پی ایسی حکمت عملی وضع کر رہی ہے جس کے ذریعے لوگوں کے مابین مذہبی فاصلے اور منافرت پیدا کرکے آئندہ الیکشن میں سیاسی مفاد حاصل کیا جاسکے اور اقتدار کی راہیں ہموار کی جاسکیں ۔ کانگریس کے سینئر رکن  سابق ایم ایل اے معید  احمد کے مطابق بی جے پی کو معلوم ہے کہ اسے کن خطوط پر کام کرکے مفاد حاصل ہوسکتا ہے ۔ معید احمد کہتے ہیں کہ  بی جے ہی کے پاس  کام کے نام پر دکھانے کو کچھ نہیں، کوئی ایسا  سچا اور حقیقی منصوبہ نہیں جس کو لے کر وہ عوام کے درمیان جا سکے  لہٰذا اسے اپنی اسی دھارمک سیاست کی طرف لوٹنا پڑ رہا ہے جس پر چل کر اُسے اقتدارملا تھا ۔ یہ بی جے پی کی سیاسی مجبوری ہے لیکن اس کا نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے ۔

    سماج وادی پارٹی کے سابق ترجمان اہم کارکن حفیظ گاندھی کے مطابق منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے ۔ لوگ سیاسی تبدیلی کے متقاضی و متمنی نظر آتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ عوام اس بار تمام جھوٹے پروپیگنڈے کو خارج کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے ساتھ آئیں گے ۔ حفیظ گاندھی اور  کئی اہم سماجی اراکین یہ بھی مانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اکھلیش یادو کے ذریعہ کئے گئے کاموں کو بھنا نے کی کوشش کی ، لیکن اب لوگ سمجھ چکے ہیں کہ صرف منفی سیاست اور نفرت سے ملک اور ریاست نہیں چلے گی ، لوگوں کو نفرت کی نہیں ترقی اور تحفظ کی ضرورت ہے  جس کا فقدان موجودہ اقتدار میں دیکھا جارہا ہے ۔

    معروف سینئر صحافی عامر صابری کہتے ہیں کہ کانپور م علی گڑھ ، اندور  اور کشی نگر سمیت کئی شہروں میں رونما ہوئے واقعات یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ بی جے پی کیا چاہتی ہے ، جہاں تک بات اقلیتوں کی ہے تو یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جس اذیت سے اقلیتی طبقہ گزرا ہے ، اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں ۔ صابری یہ بھی کہتے ہیں کہ اقلیت آئندہ الیکشن میں کس سیاسی جماعت کے ساتھ جائے گی، اقلیت کا  ووٹ کس حد تک تقسیم ہوگا ، یہ ابھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا ۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جتنا ووٹ اقلیت سے بی جے پی کو گزشتہ الیکشن میں ملا تھا اس بار اتنا نہیں مل پائے گا۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بر سر اقتدار سیاسی جماعت کے لوگ یہ ہی کہہ رہے  ہیں کہ سب جماعتیں خوش فہمی میں مبتلا ہیں ۔ بی جے ہے کے شفاعت حسین کہتے ہیں کہ  اتر پردیش میں حکومت بی جے پی ہی بنائے گی ۔ اس تجزیے کی روشنی میں سب کے  اپنے اپنے سپنے دعوے ، یقین ، گمان اور قیاس آرائیاں ہیں لیکن اس میں دو رائے نہیں کہ جس اندا کی سیاست ہو رہی ہے اور مذہبی بنیادوں پر جو وارداتیں ہو رہی ہیں ، ان سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک بار پھر ریاست کے لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سیاست سرگرم ہوچکی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: