ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سوشل ڈسٹینسنگ کی بدلتی معنویت اور نفرتوں کی سوداگری پر ماہرین قانون اور رہبروں کا اظہار تشویش

ہائی کورٹ کے سابق جسٹس بدر الدجیٰ نقوی کہتے ہیں کہ سوشل ڈسٹنسنگ کے نام پر جس انداز سے سماج میں مذہبی فاصلے پیدا کئے جارہے ہیں ، وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ فرقہ پرست طاقتیں اور شر پسند عناصر کورونا وبا کے اس ماحول میں بھی اپنے طے شدہ منفی اور غیر سماجی منصوبوں کی تکمیل کے لئے کام کر رہے ہیں ۔

  • Share this:
سوشل ڈسٹینسنگ کی بدلتی معنویت اور نفرتوں کی سوداگری پر ماہرین قانون اور رہبروں کا اظہار تشویش
سوشل ڈسٹینسنگ کی بدلتی معنویت اور نفرتوں کی سوداگری پر ماہرین قانون اور رہبروں کا اظہار تشویش

لکھنئو  : سوشل ڈسٹنسنگ کا مطلب لوگوں کو کورونا کی وبا سے بچانا ہے یا ان کے مابین مذہبی فاصلے بڑھا کر انہیں نفرت اور تعصب کا شکار بنانا ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے ، جس کا جواب ہوتے ہوئے بھی کسی کے پاس نہیں ۔ معروف تنظیم کئر فار پوئر کے صدر اور ہائی کورٹ کے سابق جسٹس بدر الدجیٰ نقوی کہتے ہیں کہ سوشل ڈسٹنسنگ کے نام پر جس انداز سے سماج میں مذہبی فاصلے پیدا کئے جارہے ہیں ، وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ فرقہ پرست طاقتیں اور شر پسند عناصر  کورونا وبا کے اس ماحول میں بھی اپنے طے شدہ منفی اور غیر سماجی منصوبوں کی تکمیل کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ جس وقت ملک کو ایک ہوکر وبا کے خاتمے کے لئے کام کرنا چاہئے تھا ، نفرت کے سوداگروں نے  وبا کو ہی نفرت کی جنگ کا آلہ کار بنا لیا۔


سابق جج بدر الجیٰ نقوی کہتے ہیں کہ اگر نفرت کے سوداگروں کو یونہی کچھ بھی کہتے اور کرتے رہنے کی چھوٹ دی جاتی رہی ، تو آج صرف مسلمان بکھر رہے ہیں ، کل دوسری اقلیتیں اور کمزور طبقے بکھیریں گے اور پھر پورا ملک بکھر جائے گا ۔ لہٰذا اس نفرت کی مہم اور آندھی کو روکنے کی ضرورت ہے ۔


معروف سماجی کارکن اور پریشر گروپ آف مائنارٹیز کے چیئرمین سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ سوشل ڈسٹنسنگ کے نام پر متعصب  لوگوں کی جانب سے ہندو بھائیوں کو کورونا کے مریضوں  اور متاثرین سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے دور رہنے کے لئے بیانات جاری کئے گئے ۔ انتہا تو یہ ہے کہ بھوکے اور پریشان حال سبزی فروشوں کو مذہب کے نام پر زد و کوب کیا گیا اور اس منصوبہ بند تحریک میں بر سر اقتدار حکومت کے سرگرم کارکنان کے ساتھ ساتھ کچھ لیڈروں کے بیانات اور تصویریں بھی وائرل ہوتی رہیں ، لیکن وزیر اعلیٰ سے لے کر انتطامیہ کے سارے ذمہ دار افسران نفرت  پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی تو کیا ایک بیان تک جاری نہ کرسکے۔


سید بلال نورانی کے مطابق نفرت کی وبا اور تعصب کی بلا کو روکنے کے لئے ان سیکولر مزاج برادران وطن بالخصوص ہندو بھائیوں کو سامنے آنا چاہئے ، جو اس ملک اور اس کی دیرینہ تہذیب اور آیئن و دستور میں یقین رکھتے ہیں ۔ اب صرف ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بیان بازی کرنے اور مسلمانوں کی حالت زار پر مباحثے کرنے سے نہیں ، بلکہ خصوصی تدبیروں اور عمل کے ذریعہ ہی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں ۔
First published: May 08, 2020 11:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading