اپنا ضلع منتخب کریں۔

    علمی تحقیق و تشہیر اور نئی نسل کا مستقبل

    اگر سائنس اور تحقیق کے میدان سے منسلک طلبا وطالبات کو بنیادی اور ضروری سہولیات و مراعات فراہم کردی جائیں تو مستقبل میں ملک کو عظیم سائنسداں مل سکتے ہیں۔

    اگر سائنس اور تحقیق کے میدان سے منسلک طلبا وطالبات کو بنیادی اور ضروری سہولیات و مراعات فراہم کردی جائیں تو مستقبل میں ملک کو عظیم سائنسداں مل سکتے ہیں۔

    اگر سائنس اور تحقیق کے میدان سے منسلک طلبا وطالبات کو بنیادی اور ضروری سہولیات و مراعات فراہم کردی جائیں تو مستقبل میں ملک کو عظیم سائنسداں مل سکتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    کسی بھی میدان میں تحقیق کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اگر کسی ادارے کے طلبا و طالبات میں تحقیقی تجسس پیدا کردیا جائے تو اس عمل سے نہ صرف نئے امکانات روشن ہوتے ہیں بلکہ نئی اور حیرت انگیز ایجادات بھی سامنے آتی ہیں اسی تناظر میں طلبا و طالبات کی تربیت کے لیے لکھنئو کی انٹیگرل یونیورسٹی میں ایک خصوصی تربیتی کیمپ کا انعقاد عمل میں آیا۔ ڈپارٹمنٹ آف بایو سائنسز کی جانب سے ایڈوانس مالیکیولر بایولوجی ٹیکنک کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ میں متعلقہ شعبے کے اہم محققوں ، سائنسدانوں اور اساتذہ نے شرکت کی، اس سات روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب میں ڈپارٹمنٹ آف بایو سائنسز کی سربراہ ڈاکٹر صنوبر ایس میر نے اپنے استقبالیہ خطبے میں اس اہم ٹریننگ پروگرام کے انعقاد کے منظر و پس منظر کو واضح کرتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد اور اہمیت و افادیت کو بھی اجاگر کیا ساتھ ہی ڈاکٹر صنوبر میر نے یہ بھی کہا کہ انٹیگرل یونیورسٹی کا بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر، پرو چانسلر ڈاکٹر ندیم اختر اور یونیورسٹی انتظامیہ کے دیگر لوگ اس شعبے کی ترقی کے لیے نہایت سنجیدہ ہیں اور یہاں طلبا و طالبات کو وہ جدید سہولیات و مراعات فراہم کی جارہی ہیں جو دوسری دانشگاہوں اور اداروں کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔

    آئی آئی آر سی کے ڈائریکٹر پروفیسر سید مصباح الحسن نے بھی اپنی بصیرت افروز تقریر میں تحقیقی ادارے کی اہمیت اور یہاں موجود انفرااسٹرکچر کے حوالے سے یہ واضح کیا کہ تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے بچوں کے لئے یہاں جو بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں وہ واقعی قابل ستائش ہیں۔ اس اہم تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب میں مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شریک جامعہ ہمدرد یونیورسٹی کے پروفیسر محمد اکرم نے ڈی ایس ٹی، استوتی پروگرام کے حوالے سے معنی خیز گفتگو کرتے ہوئے اس کے کئی روشن پہلوؤں کو اجاگر کیا ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ سے لے کر ریسرچ اسکالرز تک کے لیے یہ پروگرام کس طرح معاون ہوتا ہے اور ماضی تا حال اس سے کیا فائدے پہنچتے رہے ہیں ، اور دستیاب آلہءِ کار کس طرح نئے محققوں اور سائنسدانوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

    دہلی فساد سے جڑے کیس میں عمر خالد اور خالد سیفی کو کورٹ نے کیا بری، جانئے پورا معاملہ

    شادی سےپہلے 2-3ناجائز بیویاں رکھتےہیں ہندو، بیان پرگھرے بدرالدین اجمل، BJP نےکیاجوابی حملہ

    انہوں نے انٹیگرل یونیورسٹی کے بایو سانسز شعبے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کے میدان میں جو مقام و مرتبہ اس یونیورسٹی نے حاصل کیا ہے یہ قابل تحسین بھی ہے اور قابل فخر بھی ۔اس موقع پر پروفیسر سنجے بترا اور ڈاکٹر منوج نے بھی طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے بہترین کلمات ادا کئے اور اس شعبے جو ایک مثالی شعبے سے تعبیر کیا ۔

    ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس انداز کے پروگراموں میں شریک ہونے سے طلبا و طالبات کو سوچنے اور سمجھنے کے نئے زاویے تو ملتے ہی ہیں ساتھ ہی اپنی صلاحیتیں نمایاں کرنے کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں لہٰذا اس انداز کے تربیتی پروگراموں میں ضرور شریک ہونا چاہیے ڈاکٹر جینت کرشنا اور دیگر مقررین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ اگر تربیتی پروگرام اتنی سنجیدگی سے کئے جاتے ہیں تو ان کے خوشگوار نتائج برآمد ہوتے ہیں جن سے بچوں میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے اور انہیں اڑنے کےیے نئے پروں کے ساتھ نیا آسمان بھی ملتا ہے۔ اس تربیتی پروگرام کے آخر میں انٹیگرل یونیورسٹی کی جانب سے مہمانوں کو یادگاری نشان بھی پیش کئے گیے گئے اور انہیں اعزاز سے بھی نوازا گیا ، ڈاکٹر جہاں آرا خاتون نے مہمانوں ، اساتذہ طلباء اور سبھی شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: