உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lucknow News: دھوپ کی شدت اور پانی کی قلت میں پیڑوں کو ہرا رکھنے کی کوشش، ریٹارڈ بزرگوں کا کارنامہ

    Lucknow News: دھوپ کی شدت اور پانی کی قلت میں پیڑوں کو ہرا رکھنے کی کوشش، ریٹارڈ بزرگوں کا کارنامہ

    Lucknow News: دھوپ کی شدت اور پانی کی قلت میں پیڑوں کو ہرا رکھنے کی کوشش، ریٹارڈ بزرگوں کا کارنامہ

    لکھنئو، گومتی نگر واقع سی ایم ایس چوراہے سے امبیڈکر چوک تک سڑکوں کے کنارے اور آنے جانے والی دو سڑکوں کے مابین ہرے بھرے پھولتے پیڑ پودے کس کی محنت کا ثمرہ ہیں یہ نہ گزرنے والے راہ گیروں کو پتہ ہے نہ حکومت کے وزیروں کو ۔

    • Share this:
    لکھنئو: حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ، سرکاریں بھلے ہی کچھ کریں نہ کریں لیکن اگر آپ بیدار اور حساس ہیں تو اپنے آس پاس کے ماحول اور فضا کو زندگی اور تابندگی ضرور بخش سکتے ہیں ۔ صرف انسانوں کی ہی نہیں بلکہ پیڑ پودوں کی زندگی کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں ۔ لکھنئوکے کچھ حساس بزرگ اس انداز کی سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں جن سے صرف ہمارے سماج کے لوگ ہی نہیں بلکہ وہ سرکاریں اور سرکار سے جڑے لوگ بھی سبق لے سکتے ہیں جو سماج سدھار اور آلودگی پر مبنی پروگراموں میں بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرتے ہیں اور تقریروں سے ماحول کو گرماتے ہیں لیکن عملی اقدامات کے نام پر صفر ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کشمیری پنڈتوں کے احتجاج کو قرار دیا جائز، کہی یہ بڑی بات


    لکھنئو، گومتی نگر واقع سی ایم ایس چوراہے سے امبیڈکر چوک تک سڑکوں کے کنارے اور آنے جانے والی دو سڑکوں کے مابین ہرے بھرے  پھولتے پیڑ پودے کس کی محنت کا ثمرہ ہیں یہ نہ گزرنے والے راہ گیروں کو پتہ ہے نہ  حکومت کے وزیروں کو ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: Gyanvapi Masjid: محبوبہ مفتی نے کہا: ہماری جن جن مسجدوں پر نظر ہے ان کی فہرست دیدو


    صبح چھ 6 بجے وپُل کھنڈ واقع گومتی نگر کے مکان سے ایک ایسابوڑھا نمودار ہوتا ہے جس کے ارادے جوان ہیں وہ نہ صرف سڑک کے کنارے پودے لگاتا ہے بلکہ ہر صبح اپنے گھر سے پانی بھر کر ان پیڑوں کی ہریالی اور تازگی برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ڈاکٹر جنیندر کمار نام کےاس شخص کی محنت لگن اور جذبے کو دیکھ کرآس پڑوس کے کچھ اور لوگ بھی اس کے ساتھ اس نیک کام میں مدد کرنے کے لئے آگے آجاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک تنہا شخص ایک کارواں بن جاتا ہے۔

    میں اکیلا ہی چلا تھا جانب  منزل مگر

    لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

    ہر صبح اپنے علاقے کے پیڑ پودوں کو ہرا رکھ کر اسے خوبصورت بنائے رکھنے کے لئے ڈاکٹر جنیندر کو کتنی محنت کرنی پڑتی ہے کاش اس کا احساس اس حکومت کو بھی ہوتا جو بار بار مطالبات کے باوجود بھی سڑک کے کنارے ایک واٹر پوائنٹ تک نہیں لگوا سکی ہے ۔ ڈاکٹر جنیندر کہتے ہیں انہوں نے پیڑ پودوں کو بچانا اپنی زندگی کا مقصد اور مشن بنالیا ہے اور اب کچھ لوگ بھی اس کار خیر میں آگے آگئے ہیں لیکن نہایت افسوس ہوتا ہے جب یہ خیال آتا ہے کہ نگر نگم کیا اس لائق بھی نہیں کہ پانی کا پائپ لگانے کے لئے ایک کنکشن ہی لگا سکے ۔

    ڈاکٹر جنیندر کہتے ہیں کہ جب سڑک کے کنارے ہرے بھرے پیڑوں کے سایے میں مسافر آرام کی سانس لیتے ہیں تو انہیں یہ دیکھ کر محسوس ہوتا کہ شب و روز کی محنت اور کوشش رائگاں نہیں گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پہلے وہ تنہا دوچوراہوں کے مابین پیڑوں کی آبیاری کرتے تھے جیسے جیسے کچھ اور  لوگ  اس خدمت کے لئے آگے بڑھے ہیں اس کار خیر کے دائرے کو بھی وسیع کیا گیا ہے اب قریب کی ہی ایک اور سڑک کے کنارے شجر کاری بھی کی جارہی ہے اور آبیاری بھی کی جارہی ہی اور یہ کام اپنے تن من دھن سے کیا جارہاہے کیونکہ اگر سرکاری اداروں اور نگموں کے سہارے بیٹھے رہے تو ہمارے آس پاس کا ماحول بھی انسانی زندگیوں کی طرح ہی بے رنگ و بو  اور دھوپ کی شدت  کا شکار ہو جائے گا اور انسانی زندگیوں کی طرح یہ پیڑ پودے بھی مر کھا جائیں گے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: