உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوپی Gangster Act پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کہا۔ ایک مقدمے پر بھی لگایا جاسکتا ہے گینگسٹر ایکٹ

    یوپی گینگسٹر ایکٹ UP Gangster Act  کے خلاف دائر ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جرم کسی فرد یا گروہ کے ذریعے کیا گیا ہو، یا پھر پہلی بار بھی کسی جرم میں ملوث پائے جانے پر بھی اتر پردیش گینگسٹرس اینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹی (روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

    یوپی گینگسٹر ایکٹ UP Gangster Act کے خلاف دائر ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جرم کسی فرد یا گروہ کے ذریعے کیا گیا ہو، یا پھر پہلی بار بھی کسی جرم میں ملوث پائے جانے پر بھی اتر پردیش گینگسٹرس اینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹی (روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

    یوپی گینگسٹر ایکٹ UP Gangster Act کے خلاف دائر ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جرم کسی فرد یا گروہ کے ذریعے کیا گیا ہو، یا پھر پہلی بار بھی کسی جرم میں ملوث پائے جانے پر بھی اتر پردیش گینگسٹرس اینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹی (روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

    • Share this:
      لکھنؤ۔ سپریم کورٹ نے یوپی گینگسٹر ایکٹ UP Gangster Act کے خلاف دائر عرضی پر بڑا حکم دیا ہے۔ منگل کو یوپی گینگسٹر ایکٹ کے خلاف دائر ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جرم کسی فرد یا گروہ کے ذریعے کیا گیا ہو، یا پھر پہلی بار بھی کسی جرم میں ملوث پائے جانے پر بھی اتر پردیش گینگسٹرس اینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹی (روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یوپی حکومت کو بڑی راحت دیتے ہوئے کہا کہ چاہے صرف ایک جرم، ایک ایف آئی آر، چارج شیٹ داخل کی گئی ہو۔
      ملزم اپیل کنندہ نے سپریم کورٹ کے سامنے دلیل دی کہ صرف ایف آئی آر/ چارج شیٹ کی بنیاد پر اور وہ بھی قتل کے سلسلے میں، اپیل کنندہ کو 'گینگسٹر' اور/یا 'گینگ' کا ممبر نہیں کہا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف، اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے، ریاستی حکومت کی جانب سے دلیل دی گئی کہ گینگسٹر ایکٹ کی دفعہ 2 (b) میں مذکور سماج مخالف سرگرمیوں کے سلسلے میں، یہاں تک کہ ایک ایف آئی آر/چارج شیٹ کے معاملے میں۔ گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
      ملزم کی درخواست خارج
      دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جسٹس ایم آر شاہ اور بی وی ناگرتھنا کی ڈویژن بنچ نے خاتون ملزمہ کی عرضی کو خارج کر دیا۔ سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ اور گجرات کنٹرول آف ٹیرارزم اور کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ کے برعکس، یوپی گینگسٹر ایکٹ کے تحت ایسی کوئی خصوصی دفعات  نہیں ہے جس میں کہا گیا ہو کہ  گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کیلئے ملزم کے خلاف ایک سے زیادہ جرائم یا ایف آئی آر چارج شیٹ ہوں۔




       

      الہ آباد ہائی کورٹ نے  فیصلے کو صحیح ٹھہرایا
      سپریم کورٹ نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے سی آر پی سی  CRPC  کی دفعہ 482 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گینگسٹرس ایکٹ 1986 کے سیکشن 2/3 کے تحت سنائے گئے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا۔ سپریم کورٹ نے درخواست کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کا اہم ملزم پی سی شرما، ایک گینگ لیڈر اور ماسٹر مائنڈ تھا، اور اس نے دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مل کر ایک مجرمانہ سازش رچی تھی، جس میں درخواست گزار بھی شامل تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: