உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP MLC Election Result: بی جے پی کی بڑی جیت، ایس پی کا نہیں کھلا کھاتہ، 40 سال بعد دوہرائی گئی یہ تاریخ

    UP MLC Election Result: بی جے پی کی بڑی جیت، ایس پی کا نہیں کھلا کھاتہ، 49 سال بعد دوہرائی گئی یہ تاریخ

    UP MLC Election Result: بی جے پی کی بڑی جیت، ایس پی کا نہیں کھلا کھاتہ، 49 سال بعد دوہرائی گئی یہ تاریخ

    UP MLC Election: اترپردیش اسمبلی انتخابات میں زبردست اکثریت کے بعد بی جے پی نے ایک مرتبہ پھر جیت کا جھنڈا لہرا دیا ہے ۔ اسمبلی میں اکثریت کے ساتھ اب بی جے پی کو قانون ساز کونسل میں بھی اکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔

    • Share this:
      لکھنؤ : اترپردیش اسمبلی انتخابات میں زبردست اکثریت کے بعد بی جے پی نے ایک مرتبہ پھر جیت کا جھنڈا لہرا دیا ہے ۔ اسمبلی میں اکثریت کے ساتھ اب بی جے پی کو قانون ساز کونسل میں بھی اکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔ یہ ریاست میں 40 سال بعد ہو رہا ہے جب کسی پارٹی کو قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل دونوں میں واضح اکثریت حاصل ہو ۔ اس سے پہلے 1982 میں کانگریس کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل تھی۔ 9 اپریل کو 36 سیٹوں میں سے 27 سیٹوں پر ہوئے انتخابات میں بی جے پی نے 24 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ تین نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ سماج وادی پارٹی کا کھاتہ بھی نہیں کھلا ہے۔ بی جے پی کے امیدواروں نے بلامقابلہ 9 سیٹیں جیتی تھیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : آسنسول میں ضمنی انتخابات کے دوران تشدد، بی جے پی امیدوار نے ٹی ایم سی پر لگایا حملے کا الزام


      قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے امیدواروں نے 9 سیٹوں پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کی تھی ۔ 9 اپریل کو 27 سیٹوں کیلئے ووٹنگ ہوئی تھی ۔ منگل کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں بی جے پی نے 27 میں سے 24 سیٹیں جیت لی ہیں۔ آزاد امیدواروں نے تین نشستیں جیتیں۔ سماج وادی پارٹی کا کھاتہ بھی نہیں کھلا۔ صورتحال یہ ہے کہ ایس پی کے گڑھ اعظم گڑھ میں بھی پارٹی تیسرے نمبر پر رہی ہے ۔ یہاں سے بی جے پی سے نکالے گئے یشونت سنگھ کے بیٹے وکرانت سنگھ ریشو نے آزاد امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  حیدرآباد کو دوسری جیت کے بعد لگا بڑا جھٹکا ، 2 میچوں سے باہر ہوسکتا ہے کہ یہ اسٹار آل راونڈر


      33 سیٹوں پر جیت کے ساتھ ہی بی جے پی کو ایوان بالا میں بھی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ فی الحال بی جے پی کے 100 میں سے 35 اراکین تھے ، مگر 33 اراکین کی جیت کے ساتھ ہی یہ تعداد بڑھ کر 68 ہو گئی ہے جو کہ 51 کی اکثریتی تعداد سے زیادہ ہے ۔

      وہیں سماج وادی پارٹی کے پاس فی الحال 17 ممبران ہیں ۔ اسمبلی میں اکثریت ملنے کے بعد اب حکومت کیلئے کوئی بھی بل پاس کرانا انتہائی آسان ہو جائے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: