ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت پر جدوجہد:یو پی میں میں بھڑکے تشدد میں اب تک 13 لوگوں کی موت21 اضلاع میں انٹریٹ بند، اسکول۔کالج بند

شہریت ترمیمی قانون سی اے اے اور این آر سی کو لیکر یوپی تشدد کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں جمعے کو بڑی تعداد میں مظاہرین نے سڑکوں پر اترکر ہنگامہ توڑ۔پھوڑ کیا۔ اس تشدد کی آگ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر اب تک 13 ہوگئی ہے۔

  • Share this:

لکھنؤ: شہریت ترمیمی قانون سی اے اے اور این آر سی کو لیکر یوپی تشدد کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں جمعے کو بڑی تعداد میں مظاہرین نے سڑکوں پر اترکر ہنگامہ توڑ۔پھوڑ کیا۔ اس تشدد کی آگ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر اب تک 13 ہوگئی ہے۔ ملی جانکاری کے مطابق میرٹھ میں 4۔ وارانسی ، کانپور، بجنور اور سنبھل میں دو۔دولوگوںلوگوں کی موت ہوئی ہے جبکہ فیروز آباد میں ایک شخص کی اس میں جان چلی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقریبا 3 درج سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔


وہیں یوپی کے ڈی جی پی او پی سنگھ نے دعویٰ کیا ایک بھی مظاہرین کی موت پولیس کی فائرنگ سے نہیں ہوئی ہے۔ انتظامیہ نے افواہوں اور تشدد کو بڑھاوا دینے والے پیغامات کو پھیلانے سے روکنے کیلئے احتیاطاً 21 ضلعوں میں انٹرنیٹ خدمات معطل کردی ہیں۔ ساتھ ہی سنیچر کو ریاست بھر کے اسکول کالجوں اور یومیورسٹیوں کو بھی بند رکھا گیا ہے۔




شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج مزید شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ جمعہ کو قومی راجدھانی دہلی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے اور سی اے اے کی مخالفت میں اپنی آواز بلند کر رہے ہیں ۔
First published: Dec 21, 2019 07:22 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading