உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سی ایم یوگی کا بڑا حکم، اسکولوں میں لگائے جائیں مذہبی مقامات سے اتارے گئے لاؤڈ اسپیکر

     لاؤڈ اسپیکر کی آواز متعلقہ احاطے میں ہی رہے گی، ہم نے ہم آہنگی کے ساتھ یہ کام کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔

    لاؤڈ اسپیکر کی آواز متعلقہ احاطے میں ہی رہے گی، ہم نے ہم آہنگی کے ساتھ یہ کام کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔

    وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ (CM Yogi Adityanath) نے کہا اگر دوبارہ غیر ضروری لاؤڈ اسپیکر لگانے/ بلند آواز میں بجنے کی شکایت موصول ہوئی تو متعلقہ سرکل کے پولیس افسران، ڈپٹی کلکٹر اور دیگر افسران کی جواب دہی طے کی جائے گی۔ سمواد کے ذریعے جن لوگوں نے مختلف اضلاع میں لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے ہیں، وہ ضرورت کے مطابق قریبی اسکولوں تک پہنچانے میں تعاون کریں۔

    • Share this:
      اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ (CM Yogi Adityanath) نے کہا کہ بات چیت کے ذریعے سے ہی ہم غیر ضروری لاؤڈ اسپیکرز کو ہٹانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کی آواز متعلقہ احاطے میں ہی رہے گی، ہم نے ہم آہنگی کے ساتھ یہ کام کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔ یہ صورتحال آگے بھی جاری رہے گی۔ اگر دوبارہ غیر ضروری لاؤڈ اسپیکر لگانے/ بلند آواز میں بجنے کی شکایت موصول ہوئی تو متعلقہ سرکل کے پولیس افسران، ڈپٹی کلکٹر اور دیگر افسران کی جواب دہی طے کی جائے گی۔ سمواد کے ذریعے جن لوگوں نے مختلف اضلاع میں لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے ہیں، وہ ضرورت کے مطابق قریبی اسکولوں تک پہنچانے میں تعاون کریں۔

      سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے اگلے 48 گھنٹوں کے اندر ریاست کے مختلف مقامات پر چلائے جانے والے غیر قانونی گاڑیوں کے اسٹینڈ کو ختم کرنے کی سخت ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر قانونی ٹیکسی سٹینڈز کے مسئلے کا مستقل حل نکالے۔ ورنہ جواب دہی طے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹینڈوں کے لئے جگہ کا تعین کیا جائے اور ایسے اسٹینڈز کو قواعد کے مطابق چلایا جائے۔
      یہ بھی پڑھئے: جموں۔کشمیر:دہشت گردی کے معاملے میں علیحدگی پسند لیڈر Yasin Malik کو آج سنائی جاسکتی ہے سزا


      مزید پڑھیں: Haryana: بھیانک سڑک حادثہ، تیز رفتار ٹرک سڑک کنارے سوئے مزدوروں پر چڑھا,3ہلاک، 11 زخمی
      ہر سال سڑک حادثات میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان سے بچنے کے لیے اضافی احتیاط برتنی ہوگی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: