اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اقلیتی زبوں حالی، اسباب اور مستقبل کی حکمتِ عملی 

    اپنے مسائل حل کرنے کے لئے اقلیتی طبقے کے لوگوں کو خود سنجیدہ اقدامات کرنے ہونگے۔ ماضی کے خوابوں سے نکل کر عظمتِ رفتہ کی داستانوں سے باہر آکر حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔

    اپنے مسائل حل کرنے کے لئے اقلیتی طبقے کے لوگوں کو خود سنجیدہ اقدامات کرنے ہونگے۔ ماضی کے خوابوں سے نکل کر عظمتِ رفتہ کی داستانوں سے باہر آکر حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔

    اپنے مسائل حل کرنے کے لئے اقلیتی طبقے کے لوگوں کو خود سنجیدہ اقدامات کرنے ہونگے۔ ماضی کے خوابوں سے نکل کر عظمتِ رفتہ کی داستانوں سے باہر آکر حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    ریاست اتر پردیش کے بدلتے سیاسی و سماجی حالات جو اشارے دے رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں بات جب اقلےتی طبقوں اور بالخصوص جب سب سے بڑی اقلیت کی ہو توکہا تو یہی جاتا ہے کہ تعلیمی، سماجی ، اقتصادی معاشی اور مذہبی محاذوں پر مسلمان رو بہ زوال ہیں اور بظاہر انقلابی طور پر ان کی بحالی اور فلاح کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آرہی ہے،لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ان حالات سے کیسے باہر آیا جائے اور ایسی کون سے تدابیر کی جائیں جن کے ذریعے سماج کے دبے کچلے لوگوں کو اوپر اٹھاکر ملک و سماج کا منظر نامہ بہتری کے لئے تبدیل کیا جاسکے۔ ثانئِ سرسید کے لقب سے سرفراز اپنی پوری زندگی تعلیمی میدان میں صرف کردینے والےمعروف دانشور، ماہر تعلیم اور انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کہتے ہیں کہ اگر تعلیم کے چراغ ہر گھر میں روشن کردئے جائیں ہر گھر کے بچے کو تعلیمی زیور سے آراستہ کر دیا جائے تو اقلیتوں کی صرف تعلیمی پسماندگی ہی دور نہیں ہوگی بلکہ ان کے سماجی اور معاشی حالات بھی بہتر ہوجائیں گے کیونکہ تعلیم ہی ایک ایسا آلہءِ کار ہے جس کے ذریعے زندگی کے تمام شعبوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی اور عالمی سطح پر بھی استحکام حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ موجودہ عہد مسابقت کا دور ہے چیلنجز سے بھرا ہوا عہد ہےاس لئے پروفیسر سید وسیم اختر یہ بھی کہتے ہیں کہ تعلیم صرف برائے حصول اسناد یا صرف کاغذی ڈگریاں حاصل کرنے والی نہ ہو بلکہ با مقصد اور معیاری ہو جو طلبا کو زندگی کا سلیقہ اور شعور سکھا کر ان مستقبل کو محفوظ و مستحکم کرسک۔

    یونیورسٹی کے پرو چانسلر ڈاکٹر ندیم اختر کے مطابق موجودہ عہد میں ایسے نظام تعلیم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ہمارے طلبا و طالبات پوری دنیا کے سامنے اپنے کردار اور معیار کی بنیاد پر سر اٹھاکر بات کرسکیں ایک نظیر پیش کرسکیں ، ہماری کوشش ہے کہہ اس دانش گاہ کے فارغین اپنی لیاقت اور صلاحیت کی بنیاد پر ایسے کارنامے انجام دیں جس سے ہمارے ملک کا نام بھی روشن ہوسکے اور لوگ یہ بھی کہہ سکیں کہ انٹیگرل کے فارغین خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے کیوں نہ ہو تعلیم کا اعلیٰ معیار بھی رکھتے ہیں اور مثالی کردار بھی رکھتے ہیں ،یہ ایک حقیقت ہے کہ آج سب سے بڑی اقلیت کے سامنے سب سے زیادہ مسائل ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ مایوس ہوکر بیٹھا جائے اور زندگی کی جنگ ہار دی جائے۔

    شعبۂ اردو، ممبئی یونی رسٹی میں کلیات مضطر خیر آبادی ’’خرمن‘‘ پر محاضرہ


    اگر سنجیدہ تجزیہ جائے تو گزشتہ نصف صدی میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے لیکن اس کے لئے کسی کو ذمہدار ٹھہرانا غلط ہے اپنا محاسبہ کرنے اور اس روشنی میں سنجیدہ عمل کرنے کی ضرورت ہےپروفیسر سید وسیم اختر یہ بھی واضح کرتےہیں کہ صرف دوسرے لوگوں اور سرکاروں پر الزام تراشی کرنے ، تنقیدیں کرنے اور بیان بازی کرنے سے کچھ نہیں ہوگا،اپنی خامی، تساہلی اور عدم توجہی اور ناکامی کی ٹھیکرے دوسرے لوگوں کے سر پھوڑنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہمیں ایسی کوششیں کرنی ہوں گی جن سے ہم اپنے اور اپنے ملک کے مستقبل کو سنوار سکیں ۔یہ بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ جب جب بھی تعلیم کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ موجودہ دور میں صرف تعلیم کے حصول سے نہں بلکہ معیاری تعلیم حاصل کرنے سے مسئلے حل ہو سکیں گے۔

    انگلینڈ کے کوچ برینڈن میک کولم نے پاکستان کو کیا خبردار، کہا : جیتنے کیلئے اگر۔۔۔

    مسلسل زخمی ہو رہے ہیں ٹیم انڈیا کے تیز گیندباز، این سی اے کی ناکامی پر اٹھے سوال

    سیکڑوں  ہزاروں غیر معیاری مدارس و مکتب کھولنے سے بہتر ہے کہ کم درسگاہیں ہوں لیکن معیاری ہوں۔یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ زندگی گزارنے اور ترقی کی نئی منازل طے کرنے کے لئے پروفیشنل یعنی پیشہ ورانہ تعلیم کی بھی بڑی اہمیت ہے اس طرف بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ، لوگ اداروں اور حکومتوں پر الزام لگانے کے بجائے حکومت کی فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں اور خود ایسی کوششیں کریں جن کے ذریعے ملک و معاشرے کو بہتری کے لئے تبدیل کیا جاسکے ، اپنے افکار کو مثبت طور پر تبدیل کرنے اور محبت و لگن کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف بڑھنے سے ہی منزلوں کو حصول ممکن ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: