உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مخلوط نظامِ تعلیم : جانئے مولانا سید ارشد مدنی کے بیان پر کیوں مچا ہے ہنگامہ ؟

    مخلوط نظامِ تعلیم : جانئے مولانا سید ارشد مدنی کے بیان پر کیوں مچا ہے ہنگامہ ؟

    مخلوط نظامِ تعلیم : جانئے مولانا سید ارشد مدنی کے بیان پر کیوں مچا ہے ہنگامہ ؟

    جمعیۃ العلما کے سربراہ معروف دانشور و عالم دین مولانا ارشد مدنی کے لڑکیوں کی تعلیم اور تعلیمی نظام سے متعلق حالیہ بیان پر بر سر اقتدار جماعت کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے ۔

    • Share this:
    لکھنئو :  

    تعلیم عورتوں کی ضروری تو ہے مگر

    خوتونِ خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں

    گزرتے وقت کے ساتھ اکبر الہٰ آبادی کے اس شعر کی اہمیت اور معنویت بھی تبدیل ہو گئی اور لوگوں کے سوچنے اور سمجھنے کے نظریے بھی تبدیل ہوگئے ۔ جمعیۃ العلما کے سربراہ معروف دانشور و عالم دین مولانا ارشد مدنی کے لڑکیوں کی تعلیم اور تعلیمی نظام سے متعلق حالیہ بیان  پر بر سر اقتدار جماعت کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے ۔ ارشد مدنی نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ لڑکیوں کو ایسے اسکولوں میں بھیجیں جہاں صرف لڑکیاں ہی تعلیم حاصل کررہی ہوں ، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ مولانا  مخلوط تعلیمی نظام (کو ایجوکیشن)  یعنی تعلیم کی فراہمی کے اس طریقے کے خلاف ہیں ، جس میں لڑکیوں اور لڑکوں کو ایک ساتھ تعلیم دی کی جاتی ہے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اپنی بچیوں کے زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں انہیں اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلائیں۔ یہ نکتہ وضاحت طلب ہے کہ مولانا مدنی نے یہ بیان کس وجہ سے دیا ہے اور ایک ایسے وقت میں کیوں دیا ہے جب نفرتیں بام عروج پر ہیں اور فرقہ پرست طاقتیں ایساماحول پیدا کرنا چاہتی ہیں جس سے لوگوں میں مذہبی نفرت بڑھے اور وہ اسی بنیاد پر  آئندہ الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کریں۔

    مولانا ارشد مدنی کے بیانات پر جس انداز سے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ، اس سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ اب سیاسی لوگ کسی کی بھی کوئی بات سننے یا اس کی تفصیلی وضاحت کے لیے تیار نہیں ۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ ملک آئین سے چلتا ہے شریعت سے نہیں ، حکومت اتر پردیش کے وزیر محسن رضا نے بھی مولانا کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب لڑکیوں کو ہر شعبے میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ، ہم اس بیان کی مذمت کرتے ہیں ۔ محسن رضا نے تو مولانا کے بیان کو طالبانی بیان اور جمعیۃ کی سوچ کو طالبانی سوچ تک کہہ دیا ۔

    جمعیۃ العلما سے وابستہ معروف سماجی کارکن ڈاکٹر سلمان خالد کے مطابق مولانا ارشد مدنی کے بیان پر بے جا تنقید کرنے اور اسے طالبانی بیان قرار دینے والے لوگ صرف منفی سیاست اور معاشرے کی تقسیم میں یقین رکھتے ہیں ۔ بشمول آر ایس ایس جس انداز کے بیانات مسلم لڑکیوں اور لڑکوں کے تعلق سے شدت پسند تنظیموں کی جانب سے مسلسل آتے رہے ہیں ، اس پس منظر میں مولانا ارشد مدنی کے بیان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ وہ لڑکیوں کی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے خلاف  نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کی متمنی ہیں ۔ بغیر سوچے سمجھے اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے جو وزرا بیان دے رہے ہیں ، ان کا یہی کام ہے کہ وہ کسی بھی عالم یا اہم شخصیت کے بیانات پر رد عمل ظاہر کریں اور مسلم مخالف ذہنیتوں سے داد حاصل کریں ۔ جمعیۃ العلما نے اس ملک کی آزادی سے لے کر تعمیر و ترقی تک غیر معمولی قربانیاں پیش کی ہیں اور آج بھی اسی حوالے سے کوششیں کی جارہی ہیں کہ ملک نفرت کرنے والے لوگوں کی سیاست سے بچا رہے ۔

    معروف سماجی کارکن طاہرہ حسن نے بھی مولانا ارشد مدنی کے بیان کو غیر ضروری اور غلط وقت پر دیا جانے والا بیان کہا ہے ۔ طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ جب جب الیکشن کی سرگرمیاں بڑھتی ہیں ، ایسے بیانات جاری کئے جاتے ہیں جن کا فائدہ صرف اور صرف فرقہ پرست طاقتوں کو پہنچتا ہے ایک ایسے ملک میں جو شریعت سے نہیں بلکہ سنویدھان ، (آئین ) سے چلتا ہے ، وہاں اس بیان کی قطعی ضرورت نہیں تھی ۔

    اہم بات یہ ہے کہ خواتین کے معاملے میں لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ “خاتون خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں” بقول مجاز یہ کیوں نہیں کہتے کہ۔۔

    ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

    تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھّا تھا
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: