உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقتدار کی جنگ اور دلت مسلم محاذ، سیاسی جماعت کا کوئی مخصوص ووٹ بینک نہیں: سیاسی مبصرین

    سیاسی مبصرین کے مطابق مذہبی خطوط پر کی جانے والی سیاست نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی مخصوص ووٹ بینک نہیں ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق مذہبی خطوط پر کی جانے والی سیاست نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی مخصوص ووٹ بینک نہیں ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق مذہبی خطوط پر کی جانے والی سیاست نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی مخصوص ووٹ بینک نہیں ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    لکھنئو: جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں آئندہ الیکشن کی تیاریوں کو لے کر تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ہدف کی طرف کوشاں نظر آتی ہیں۔ اتر پردیش میں دلتوں اور مسلمانوں کے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ تو تمام سیاسی جماعتوں کو پہلے سے ہی ہے لیکن کانگریس کی خاموشی ، سماج وادی پارٹی کی نئی حکمت عملی ، اور الیکشن کے دوران ووٹ کی تقسیم کو یقینی بنانے والی چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کے ذاتی مفاد پر مبنی منصوبوں اور مکمل طور پر تبدیل ہوتی سیاسی صورت حال نے ایک بار پھر یہ اشارے دینے شروع کر دئے ہیں کہ ایس پی اور بی ایس پی ایک بار پھر دلت مسلم اتحاد کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ پورے مغربی اور مشرقی اتر پردیش میں عوامی رابطے کرنے والے سیاسی لیڈر یہ مانتے ہیں کہ اس بار بھی اتر پردیش کے اقتدار کی تشکیل میں مسلم دلت ووٹ بینک ایک اہم اور بنیادی رول ادا کرے گا۔ معروف سماجی کارکن اور ملی و سیاسی رہنما سید بلال نورانی کی آواز پر سبھی کمزور طبقوں کے ہزاروں لوگوں کا جمع ہوجانا یہ ثابت کررہا ہے کہ اس بار کسی بھی جماعت کے لئے حصول اقتدار کی راہیں آسان نہیں بلال نورانی کہتے ہیں کہ عوامی رابطوں کے نتیجے میں ملنے والے رجحانات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کی طرف حسرت سے دیکھ رہے ہیں اور مہنگائی و بے روزگاری سے پریشان لوگ ایس پی کے لئے اس کےکھوئے ہوئے وقار اور اقتدار کی راہیں ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

    ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص سب سے بڑی اور سب سے بدحال اقلیت کا سیاسی مستقبل کیا ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تو ہر سیاسی جماعت کے پاس ہے لیکن اس جواب سے اقلیتی طبقے کے علماء دانشور اور سیاست داں مطمئن نہیں۔ آزادی کے بات سے اب تک مسلم طبقے کی قربانیوں کو جس انداز سے نظرانداز کیا گیا ہے مختلف بنیادوں پر انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھ کر جو سلوک کیا گیا ہے اس نے امن پسند اور جمہوریت میں یقین رکھنے واکے شہریوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ غیر سیاسی علماء کے مطابق مسلم قیادت کے فقدان اور کوئی ٹھوس حکمت عملی نہ ہونے کے سبب ایسا ہواہے۔ کچھ لیڈر مسلمانوں کے نام پر ابھر کر سامنے آئے بھی لیکن یا تو وہ سیاسی آقاؤں کے غلام ہو گئے یا پھر ذاتی مفاد کے اسیر ہو گئے اور ملت ملک او قوم کو فراموش کردیا گیا ۔

    بات اگر اتر پردیش کی کریں تو مولانا قاری یوسف عزیزی اور مولانا علی حسین قمی کہتے ہیں کہ گزشتہ بیس سال میں سیاسی سطح پر دو نام بھی تو ایسے نہیں جنہوں نے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ملک ملت اور قوم کے لیے کام کیا ہو ، دلتوں مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے دبے کچلے لوگوں کے لیے آوازیں تو اٹھی ہیں لیکن عملی اقدامات نہیں کیے گئے گزشتہ دنوں بھیم آرمی کے بانی چندر شیکھر سے ملاقات کے بعد بلال نورانی نے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ ابھی عوامی خدمات کے جذبوں کے ساتھ مثبت سیاست کی جاسکتی ہے اتر پردیش میں اگر ایسے چار لیڈر بھی مسلمانوں اور دلتوں کے پاس ہوتے تو ان کے بیشتر مسائل حل ہو چکے ہوتے۔۔معروف سیاسی مبصر اور دانشور ایس کے ترویدی کہتے ہیں کہ مسلم طبقے کی بد نصیبی یہ ہے کہ اسے سبھی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ سیاسی مفاد کے لئے استعمال کیا۔

    مسلم بدحالی کا اعتراف بھی کیا گیا ، کمیٹیوں اور کمیشنوں کی رپورٹیں بھی پیش کی گئیں لیکن ان کے مسائل حل کرنے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے گئے ، موجودہ سیاسی نظام میں بغیر مستحکم قیادت کے کچھ بھی حاصل کرنا ناممکن حد تک دشوار ہے مسلم سیاسی لیڈروں اور چہروں کے نام پر ملک کی سب سے بڑی ریاست میں کانگریس ، بی جے پی، ایس پی اور بی ایس پی کے پاس جو چہرے ہیں انہیں عوامی اعتماد حاصل نہیں تاہم بلال نورانی جیسےسماجی رہنماؤں کی ذاتی کوششوں نے ایک بڑے طبقے کو متاثر ضرور کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نورانی جیسے سماجی و ملی رہنما کس سیاسی جماعت کا رخ کرتے ہیں یا کس پارٹی کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔

    معروف عالم دین مولانا ابو العرفان کہتے ہیں کہ کچھ ملت فروش مولویوں نے بھی اپنے مفاد کے لئے مسلمانوں کا ٹھیکیدار بن کر پوری ملت کا سیاسی مستقبل داو پر لگایا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہاہے لوگ بیدار ہو رہے ہیں اور یہ بیداری ایک بڑے سیاسی انقلاب کا پیش خیمہ ضرور ثابت ہو گی اتر پردیش میں اس دور اقتدار میں مسلمانوں نے بہت ظلم و ستم سہے ہیں۔ لہٰذا اب ایک مستحکم حکمت عملی کے ساتھ اسی سیاسی جماعت اور سیاسی لیڈر کا تعاون کیاجائے گا جو سماج کے دبے کچلے اور کمزور لوگوں کے لیے کام کرے اور اپنی جماعت سے ان کے مسائل حل کرانے کا اہل ہو ۔ یہاں یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ اتر پردیش کے اقتدار کی دعویدار تو سبھی اہم سیاسی جماعتیں ہیں لیکن آج بھی آئندہ الیکشن کے لئے جس انداز کی کوششیں بی جے پی کی جانب سے کی جا رہی ہیں وہ دوسری کسی جماعت کی جانب سے نہیں کی جا رہی ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: