உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوگی حکومت نے کی مہنت نریندر گری موت معاملہ کی سی بی آئی جانچ کی سفارش

    یوگی حکومت نے کی مہنت نریندر گری موت معاملہ کی سی بی آئی جانچ کی سفارش

    یوگی حکومت نے کی مہنت نریندر گری موت معاملہ کی سی بی آئی جانچ کی سفارش

    Mahant Narendra Giri Death : یوگی حکومت نے اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کی موت کے معاملہ کو حل کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اتر پردیش حکومت کے محکمہ داخلہ نے معاملہ کی جانچ کے لیے مرکزی حکومت سے سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنؤ : یوگی حکومت نے اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کی موت کے معاملہ کو حل کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اتر پردیش حکومت کے محکمہ داخلہ نے معاملہ کی جانچ کے لیے مرکزی حکومت سے سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت اس معاملہ کو جلد از جلد حل کرنا چاہتی ہے اور اس نے غیر جانبدارانہ جانچ کے پیش نظر سی بی آئی تفتیش کی سفارش کی ہے۔

      قابل ذکر ہے کہ نریندر گری کی موت کے معاملہ میں لگاتار سوالات اٹھ رہے تھے اور کئی سیاستدان اور سنت سماج سے وابستہ لوگ بھی اس کو خودکشی کا معاملہ ماننے سے انکار کر رہے تھے ۔ نیز وہ پورے معاملہ کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کر رہے تھے۔

      نریندر گری موت کیس میں پولیس نے اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے ۔ نریندر گری کے پاس سے برآمد خودکشی نوٹ میں آنند گری ، آدیا تیواری اور ان کے بیٹے سندیپ تیواری کو موت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا ۔ خودکشی نوٹ میں لکھا تھا کہ یہ تینوں بلیک میل کر رہے ہیں اور انہیں ذہنی اذیت پہنچا رہے ہیں۔  نریندر گری نے خودکشی نوٹ میں تینوں کو اپنی موت کیلئے ذمہ دار بتایا تھا ، جس کی بنیاد پر یوپی پولیس نے تینوں کو گرفتار کرلیا تھا ۔

      وہیں سی جے ایم عدالت میں پیش کی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نریندر گری کے جسم پر چوٹ کے نشانات نہیں ملے ہیں ، ان کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ رپورٹ میں ہینگنگ کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ ان کی گردن پر وی شیپ کا نشان پایا گیا ہے ، جو صرف پھندہ کی وجہ سے ہی آتا ہے۔

      ایسی صورت میں پولیس کچھ حد تک واضح ہے کہ مہنت نریندر گری نے خودکشی کی ہے اور ان کی موت پھندے سے لٹکنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: