ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تھیلے میں بند کرکے کچرے پر پھینک دی گئی نوزائیدہ بچی کو گود لینے کے لئے متعدد افراد نے ظاہر کی خواہش

دو روز قبل میرٹھ کے پرتا پور علاقے میں سڑک کنارے کچرے کے ڈھیر پر ملی نوزائیدہ بچی کو گود لینے کے لیے اب تک معتدد افراد خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔

  • Share this:
تھیلے میں بند کرکے کچرے پر پھینک دی گئی نوزائیدہ بچی کو گود لینے کے لئے متعدد افراد نے ظاہر کی خواہش
سڑک کنارے کچرے کے ڈھیر پر ملی نوزائیدہ بچی کو گود لینے کے لیے اب تک معتدد افراد خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔

جہاں ایک طرف اس سماج میں ایسے ماں باپ موجود ہیں جو بیٹی پیدا ہونے پر اُس سے چھٹکارا پانے کے لیے بچی کو کچرے کے ڈھیر پر مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں وہیں اسی سماج میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو لاوارث بچی کو گلے لگا کر اپنانے کی لیے آگے آجاتے ہیں۔ دو روز قبل میرٹھ کے پرتا پور علاقے میں سڑک کنارے کچرے کے ڈھیر پر ملی نوزائیدہ بچی کو گود لینے کے لیے اب تک معتدد افراد خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ ضلع لیڈی اسپتال کی چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق اب بچی کی حالت میں کافی سدھار ہے اور لوگ اس بچی کو گود لینے کے لیے رابطہ کر رہے ہیں یہاں تک کہ نرسری میں اس بچی کا علاج کر رہے ڈاکٹر بھی بچی کو گود لینے کے خواہشمند ہیں۔

دو روز قبل میرٹھ کے پرتا پور تھانہ علاقے کے گاگول روڈ پر سڑک کنارے کچرے پر سیمنٹ کے بورے میں اس نوزائیدہ بچی کو برآمد کیا گیا تھا۔ بچی کو ضلع لیڈی ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اسپتال کی نرسری میں یہ نوزائیدہ بچی زیر علاج ہے اور اب اس بچی کی حالت کافی بہتر ہے وہیں میڈیا کے ذریعہ خبر ملنے کے بعد اب کئی افراد بچی کو گود لینے کے لئے آگے آئے ہیں۔


ضلع لیڈی اسپتال کی چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر منیشا اگروال کا کہنا ہے کہ اسپتال میں زیر علاج نوزائیدہ بچی اب کافی بہتر حالت میں ہے بچی کے مکمّل طور پر ٹھیک ہونے کے بعد اسے ضلع انتظامیہ کے سپرد کر دیا جائیگا اور پھر ضلع انتظامیہ اسے چائلڈ کیئر کے سپرد کر سکتا ہے جہاں سے بچی کو گود لینے کی کاروائی پوری کی جا سکتی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ لیڈی اسپتال کی نرسری میں بچی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر وویک چودھری خود بھی بچی کو گود لینے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔

Published by: sana Naeem
First published: Nov 27, 2020 04:00 PM IST