ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

انتہائی شرمناک! اس وجہ سے لاک ڈاؤن میں چلی گئی نوزائیدہ بچے کی جان، تڑپتے رہے والدین، تصویر دیکھ کر کانپ جائے گی روح

پچپن گھنٹے کے لاک ڈاؤن کے پہلے ہی دن میرٹھ میں ایک دلسوز واقعہ پیش آیا۔ نوزائیدہ بچے کی طبیعت خراب ہونے پر نرسری میں داخل کرانے جا رہے والدین کے ہاتھوں میں ہی بچے نے دم توڑ دیا۔

  • Share this:
انتہائی شرمناک!  اس وجہ سے لاک ڈاؤن میں چلی گئی نوزائیدہ بچے کی جان، تڑپتے رہے والدین، تصویر دیکھ کر کانپ جائے گی روح
پچپن گھنٹے کے لاک ڈاؤن کے پہلے ہی دن میرٹھ میں ایک دلسوز واقعہ پیش آیا۔ نوزائیدہ بچے کی طبیعت خراب ہونے پر نرسری میں داخل کرانے جا رہے والدین کے ہاتھوں میں ہی بچے نے دم توڑ دیا۔

پچپن گھنٹے کے لاک ڈاؤن کے پہلے ہی دن میرٹھ میں ایک دلسوز واقعہ پیش آیا۔ نوزائیدہ بچے کی طبیعت خراب ہونے پر نرسری میں داخل کرانے جا رہے والدین کے ہاتھوں میں ہی بچے نے دم توڑ دیا اور اس واقعے نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ غازی آباد مسوری کے رہنے والے ٹرک ڈرائیور چاند محمد کی اہلیہ نے گزشتہ روز ایک بچے کو جنم دیا تھا ، بچے کی حالات نازک تھی جس کو جلد سے جلد نرسری میں داخل کرنا ضروری تھا۔

ماں باپ اپنے نوزائیدہ بچے کو ایک گاڑی میں لیکر شہر کے ہی ایک پرائیویٹ اسپتال کے لیے روانہ ہوئے۔ شہر کے تیج گڑھی چوراہے پر دوسری جانب سے آ رہی تیز رفتار کار نے چاند محمد کی گاڑی میں زبردست ٹکّر مار دی۔ ٹکّر مارنے والا شخص دروغہ تھا جو ٹکّر مارنے کے بعد چاند محمد کو دھمکاتے ہے ہوئے موقع سے فرار ہو گیا۔ گاڑی خراب ہونے کے بعد بچے کے ماں باپ دوسری سواری اور مدد کی تلاش میں آدھے گھنٹے تک سڑک پر ادھر ادھر بھٹکتے رہے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہ تو ان کو کوئی سواری ملی اور نہ ہی کوئی مددگار ، لیکن شرم اور حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ چوراہے پر ڈیوٹی پر موجود پولیس والوں نے بھی مجبور ماں باپ کی مدد نہیں کی اور نہ ہی ٹکّر مارنے والے دروغہ کو روکا۔

قابل غور ہے کہ آدھے گھنٹے بعد کسی طرح ایک رکشے کا انتظام ہونے کے بعد ماں باپ بچے کو لیکر اسپتال پہنچے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور نوزائیدہ بچے کی جان بچائی نہیں جا سکی۔  لیکن حد تو اس وقت ہو گئی جب ماں باپ اپنے بچے کی لاش کو ایمبولینس میں لیکر اسی چوراہے پر پہنچے جہاں ان کی گاڑی ٹکّر لگنے سے خراب ہو گئی تھی تو پولیس والوں نے ان سے فوراً گاڑی ہٹانے کو کہا اور کرین بولنے کے ایک ہزار روپیے بھی مانگے۔


اس طرح کے واقعات ہمارے سماج کے لیے ایک دھبّا ہیں اگر مجبور ماں باپ کی وقت رہتے مدد کی جاتی تو بچے کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jul 12, 2020 07:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading