உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میرٹھ کے اس گاؤں میں دسہرے کے دن منایا جاتا ہے ماتم، گھروں میں نہیں جلتا چولہا، وجہ کردے گی حیران

     نیوز 18 نے اس گاؤں کا دورہ کیا اور یہ راز جاننا چاہا کہ تقریباً اٹھارہ ہزار کی آبادی والا یہ گاؤں دسہرہ کیوں نہیں مناتا۔ لوگوں نے اس راز سے پردہ اٹھایا تو حیران کن حقیقت سامنے آ گئی۔

    نیوز 18 نے اس گاؤں کا دورہ کیا اور یہ راز جاننا چاہا کہ تقریباً اٹھارہ ہزار کی آبادی والا یہ گاؤں دسہرہ کیوں نہیں مناتا۔ لوگوں نے اس راز سے پردہ اٹھایا تو حیران کن حقیقت سامنے آ گئی۔

    نیوز 18 نے اس گاؤں کا دورہ کیا اور یہ راز جاننا چاہا کہ تقریباً اٹھارہ ہزار کی آبادی والا یہ گاؤں دسہرہ کیوں نہیں مناتا۔ لوگوں نے اس راز سے پردہ اٹھایا تو حیران کن حقیقت سامنے آ گئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttar Pradesh, India
    • Share this:
      میرٹھ۔ ہندوستان میں تہواروں کی اپنی اہمیت ہے۔ لوگ تہواروں کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ تہوار کے دنوں میں خوشیاں منائیں، مٹھائیاں چڑھائیں، نئے کپڑے پہنیں اور رسم و رواج کی پابندی کریں۔ ان تہواروں میں سے ایک آج دسہرہ ہے۔ لوگ تہوار کی خوشیاں منانے میں مصروف ہیں لیکن میرٹھ میں ایک ایسا گاؤں ہے جہاں دسہرے کا نام آتے ہی گاؤں میں ماتم چھا جاتا ہے۔

      یہاں دسہرہ کا تہوار آتے ہی گاؤں میں مایوسی پھیل جاتی ہے۔ اس دن گھروں میں چولہے نہیں جلتے۔ جھوٹ پر سچ کی جیت کا تہوار دسہرہ ملک اور بیرون ملک دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ لیکن میرٹھ کے گگول گاؤں میں دسہرہ کے دن گھروں میں چولہے نہیں جلتے ہیں۔ اس گاؤں میں سینکڑوں سالوں سے دسہرہ نہیں منایا جاتا تھا۔ اس کی وجہ بھی سینکڑوں سال پہلے کی تاریخ میں موجود ہے۔

      گاؤں کی آبادی 18 ہزار ہے۔
      میرٹھ سے تیس کلومیٹر دور گگول گاؤں میں ایک ایسی کہانی ہے کہ یہاں دسہرہ کا نام سنتے ہی ہر کسی کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ لوگ اداس ہو جاتے ہیں۔ نیوز 18 نے اس گاؤں کا دورہ کیا اور یہ راز جاننا چاہا کہ تقریباً اٹھارہ ہزار کی آبادی والا یہ گاؤں دسہرہ کیوں نہیں مناتا۔ لوگوں نے اس راز سے پردہ اٹھایا تو حیران کن حقیقت سامنے آ گئی۔

      گگول گاؤں میں دسہرہ نہ منانے کے پیچھے ایسی وجہ ہے کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔ یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ جب میرٹھ میں انقلاب کا شعلہ بھڑکا تھا۔ چنانچہ اس گاؤں کے تقریباً نو لوگوں کو دسہرہ کے دن ہی پھانسی دے دی گئی تھی۔ وہ پیپل کے درخت آج بھی گاؤں میں موجود ہیں، جہاں اس گاؤں کے نو لوگوں کو پھانسی دی گئی تھی۔ یہ بات اس گاؤں کے بچوں میں اس قدر پیوست ہو گئی ہے کہ بچہ ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، دسہرہ نہیں منایا جاتا۔ یہی نہیں اس دن گاؤں کے کسی گھر میں چولہا بھی نہیں جلتا ہے۔ یہاں لوگ شہیدوں کو اس طرح سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کو خراج تحسین پیش کریں.
      Published by:Sana Naeem
      First published: