உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میرٹھ : چار سالوں سے اندھیرے میں زندگی گزارنے کو مجبور ضیا الدین کا کنبہ ، جانئے کیوں

    میرٹھ : چار سالوں سے اندھیرے میں زندگی گزارنے کو مجبور ضیا الدین کا کنبہ ، جانئے کیوں

    میرٹھ : چار سالوں سے اندھیرے میں زندگی گزارنے کو مجبور ضیا الدین کا کنبہ ، جانئے کیوں

    میرٹھ کی پرانی تحصیل علاقے میں رہنے والے ضیاء الدین اور ان کے اہل خانہ گزشتہ چار سال سے اُس غلطی کی سزا کاٹ رہے ہیں جو انہوں نے کی ہی نہیں ۔

    • Share this:
    میرٹھ : ایک طرف حکومت عوام تک بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اسکیمیں لانچ کر رہی ہے تو وہیں سرکاری محکموں کے کچھ افسران اپنی حرکتوں اور رویہ سے نہ صرف سرکاری منصوبوں پر پانی پھیر رہے ہیں بلکہ عوام کی پریشانی کا سبب بھی بن رہے ہیں ۔ میرٹھ میں بجلی محکمہ کے ایسے ہی ایک نا اہل اور بدمزاج افسران کی کارستانی کا خمیازہ ایک غریب خاندان کو گزشتہ چار سال سے بغیر بجلی کے ره کر بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    میرٹھ کی پرانی تحصیل علاقے میں رہنے والے ضیاء الدین اور ان کے اہل خانہ گزشتہ چار سال سے اُس غلطی کی سزا کاٹ رہے ہیں جو انہوں نے کی ہی نہیں ۔ مستقل مزاجی سے بجلی کا بل جمع کرانے والے ضیا الدین میٹر کا بدلنے کے بعد آئے 20 ہزار کے بل کی شکایت لے کر ہائیڈل پہنچنا سنجے شرما نام کے ایگزیکٹیو انجینئر کو اتنا ناگوار گزرا کہ ایکس ای این نے بیس ہزار کے بل کو کم کرنے کے بجائے ایک لاکھ 92 ہزار کا کر دیا ۔ بل کی اتنی بڑی رقم جمع نہ کر پانے کی وجہ سے نے صرف ضیاء الدین کی بجلی کاٹ دی گئی بلکہ آج تک نیا کنکشن بھی نہیں دیا گیا ۔ سولر لائٹ میں زندگی گزار رہے ضیاء الدین اور ان کے اہل خانہ گزشتہ چار سال سے کس پریشانی میں مبتلا ہیں  ،یہ بیان کرتے ہوئے ان کے آنسو چھلک جاتے ہیں ۔

    ضیاء الدین کے پڑوسی بھی ان کی پریشانی دیکھ کر پریشان اور فکرمند ہیں ، لیکن کچھ کرنے سے قاصر ہیں ۔ بل درست کرانے اور بجلی کنکشن حاصل کرنے کے لیے گزشتہ چار سال سے پریشان ضیاء الدین وارڈ کے کارپوریٹر سے لیکر بجلی محکمہ کے افسران اور کنزیومر فورم تک کا دروازہ کھٹکھٹا چکے ہیں ، لیکن ابھی ان کی مشکل کا حل نہیں نکل سکا ہے ۔

    اس معاملے کو لیکر جب پاور کارپوریشن کے ایم ڈی سے بات کی گئی تو ڈائریکٹر نے معاملہ کی جانچ کرکے پریشانی کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ، لیکن کیمرے پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا ۔ وہیں ضیاء الدین اور ان کے اہل خانہ پُرامید ہیں کہ نیوز 18 کی اس خبر کے اثر سے ان کے گھر کا اندھیرا دور ہوگا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: