ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوپی کے مدرسہ ٹیچروں کیلئے جاری ہوئے پچاس کروڑ روپے کیوں ہیں اونٹ کے منہ میں زیرہ

وزارت فروغ انسانی وسائل کے ذریعہ سال 2016-17 کے بقایا کے تحت ڈھائی ماہ کی سیلری کا پچاس کروڑ 89 لاکھ روپے جاری کیا گیا ہے ۔ یہ سیلری سال 2016-17 کی اولین قسط کا چالیس فیصدی ہے ۔

  • Share this:
یوپی کے مدرسہ ٹیچروں کیلئے جاری ہوئے پچاس کروڑ روپے کیوں ہیں اونٹ کے منہ میں زیرہ
یوپی کے مدرسہ ٹیچروں کیلئے جاری ہوئے پچاس کروڑ روپے کیوں ہیں اونٹ کے منہ میں زیرہ

حال ہی میں مرکزی حکومت کی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے ذریعہ چلائی جانے والی مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کو مرکزی وزارت برائے اقلیتی امورکو ٹرانسفر کردیا گیا تھا ۔ تاہم ایسے حالات میں بڑا سوال یہ اٹھایا جارہا تھا کہ آخر پرانی سیلری کا بقایا جو تقریبا چار سال کا بقایا ہے ، اس کی ادائیگی کون کرے گا ۔ اس سلسلے میں راحت بھری خبریہ ہے کہ نیوز 18اردو کو ایسے دستاویزات حاصل ہوئے ہیں جن میں 5 نومبر کو وزارت فروغ انسانی وسائل کے ذریعہ سال 2016-17 کے بقایا کے تحت ڈھائی ماہ کی سیلری کا پچاس کروڑ  89 لاکھ روپے جاری کیا گیا ہے ۔ یہ سیلری سال 2016-17 کی اولین قسط کا چالیس فیصدی ہے یعنی گزشتہ سال چھ ماہ کی سیلری کا ساٹھ فیصدی جاری کرتے ہوئے تقریبا 61 کروڑ روپے جاری کیا گیا تھا ۔ چالیس فیصدی ریاست اترپردیش کو دینا تھا ، لیکن اترپردیش نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ ریاست کے بجٹ میں اسکیم کا چالیس فیصدی سال 2018-19 سے ہی منظور ہے ۔ اس سے قبل کا فنڈ مرکزی حکومت کو ہی دینا ہوگا جس کی وجہ سے یہ بقایا یعنی پچاس کروڑ نواسی لاکھ روپے جاری کیاگیا ۔ تاہم اسی سال کا ابھی چھ ماہ کا بقایا جاری نہیں ہوا ہے ۔حالانکہ تقریبا چار سالوں کا بقایا اساتذہ کی جانب سے مانگا جاتا رہاہے ۔


اسکیم کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کی ایسوسی ایشنز نے سیلری جاری ہونے کا خیرمقدم کیاہے اور وزیر اقلیتی ا مور اترپردیش نند کمار نندی ، وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے بقایا سیلری جاری کئے جانے کی درخواست بھی کی ہے ۔ ایسوسی ایشن صدر اعجاز احمد ، دوسری ایسوسی ایشن کے صدر سکندر بابا نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو سیلری بقایاجاری کیاگیا ہے ، وہ بہت ہی معمولی ہے ۔ ہم امید کررہے تھے کہ ایک سال کی بقایا سیلری جاری ہوگی ، کیونکہ ہمارے لوگ اس سے زیادہ مقروض ہیں  ۔ چار سال کی سیلری میں سے صرف ڈھائی ماہ کی سیلری جاری ہونا اچھا ہے ۔ تاہم یہ بہت ہی کم ہے اور اونٹ کے منہ میں زیر ہ کی طرح ہے ۔ ہماری درخواست ہے کہ ایک سال کی سیلری جاری کرکے ہمیں راحت دی جائے ۔


 نیوز 18کا اساتذہ نے کیا شکریہ


سیلری جاری کئے جانے پر اساتذہ نے نیوز 18 اردو کا شکریہ بھی ادا کیا کہ چینل کی جانب سے ان کی سیلری کے موضوع کو کافی زوردار انداز میں اٹھایاگیا ۔ غور طلب ہے کہ تقریبا چھ ماہ قبل ہی نیوز 18 اردو نے خبر چلائی تھی کہ اساتذہ کی اسکیم کو وزارت اقلیتی امور کو دینے کی تیاری کی جاری ہے ، جس کے بعد اساتذہ کی سیلری کا موضوع گرم ہوگیا تھا ۔

مرکزی حکومت اسکیم کی فنڈنگ میں کرچکی ہے بڑی تبدیلی

مرکزی حکومت کے تحت چلنے والی اسکیم پہلے پوری طرح سے مرکز کی فنڈنگ کے تحت ہوتی تھی ۔ سال 1998میں شروع ہوئی اسکیم کے اساتذہ کو مرکزی حکومت کی وزارت فروغ انسانی وسائل پوری سیلری دیتی تھی ۔ سال 2009 میں اسکیم کو مدرسہ جدیدکاری اساتذہ کا نام دیا گیا اور سیلری گریجویٹ کے لئے 6000 اور پوسٹ گریجویٹ کے لئے 12000 طے کی گئی ۔پور ے ملک کی تقریبا 17ریاستوں میں چلنے والی اسکیم کے تحت صرف اترپردیش میں تیس ہزار سے زیادہ اساتذہ ہیں ۔ صرف اترپردیش کی اکھلیش سرکار نے مرکز سے سیلری ملنے میں دیری اور تنازعات کے درمیان 25 فیصدی مدد کے تحت الگ سے گریجویٹ کو دوہزار  اور پوسٹ گریجویٹ کو تین ہزار روپے دینے کافیصلہ کیا تھا ۔ اس طرح سے ان اساتذہ کو آٹھ ہزار اور پندرہ ہزار سیلری ملتی ہے ۔

تاہم سال 2018-19 میں اسکیم کی فنڈنگ میں تبدیلی کرتے ہوئے پہاڑی ریاستوں میں 90 فیصدی مرکز اور 10 فیصدی ریاست کے فارمولہ کو طے کیا گیا جبکہ میدانی ریاستوں میں 60-40 فیصدی فارمولہ کو طے کیا گیا ہے ۔ اس طرح اب یہ اسکیم ریاست اور مرکزی حکومت دونوں کے بجٹ اور فنڈنگ کے تحت آچکی ہے ۔ دوسری لفظو ں میں یہ اسکیم اب 100 فیصدی مرکزی حکومت کی فنڈنگ سے باہر ہوچکی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 12, 2020 04:37 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading