உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش میں پر'اسرار بخار' نے لے لی 100 سے زیادہ کی جان ، بڑی تعداد میں بچوں کی اموات

    اترپردیش میں پر'اسرار بخار' نے لے لی 100 سے زیادہ کی جان ، بڑی تعداد میں بچوں کی اموات

    اترپردیش میں پر'اسرار بخار' نے لے لی 100 سے زیادہ کی جان ، بڑی تعداد میں بچوں کی اموات

    Mysterious fever : فیروز آباد کے سینئر ہیلتھ افسر ڈاکٹر نیتا کل شریشٹھ کہتی ہیں کہ اسپتالوں میں مریضوں ، خاص کر بچوں کی موت کافی تیزی سے ہورہی ہے ۔ گزشتہ ہفتے 32 بچوں سمیت 40 لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنو : اترپردیش میں 'پراسرار' بخار اب تک 100 سے زیادہ لوگوں کی موت ہونے کی خبر ہے ۔ اترپردیش کے کئی اضلاع میں گزشتہ ایک ہفتہ سے بچوں میں پراسرار بخار کا قہر بڑھ گیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ اضلاع میں راجدھانی لکھنو ، آگرہ ، متھرا ، مین پوری ، ایٹہ ، کاس گنج اور فیروز آباد کے نام شامل ہیں ۔ فیروز آباد کے کوشلیا نگر میں بخار سے سب سے زیادہ متاثرین ہیں ۔ متاثرین افراد میں زیادہ تر بچے ہی ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ تین بالغوں کی اب تک موت ہوچکی ہے جبکہ مرنے والے بچوں کی تعداد 50 تک پہنچ چکی ہے ۔ فیروز آباد کے دیگر محلے بہاری پورم ، کشن نگر ، آصف آباد ، جین نگر ، ستیہ نگر ٹاپا اور صدامہ نگر ہیں ۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق فیروز آؓباد کے سینئر ہیلتھ افسر ڈاکٹر نیتا کل شریشٹھ کہتی ہیں کہ اسپتالوں میں مریضوں ، خاص کر بچوں کی موت کافی تیزی سے ہورہی ہے ۔ گزشتہ ہفتے 32 بچوں سمیت 40 لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔ حالانکہ غیرسرکاری تعداد 100 سے زیادہ بتائی جارہی ہے ۔

      اترپردیش کی راجدھانی میں بھی وائرل بخار کا قہر بڑھنے لگا ہے ۔ اس بیماری سے لکھنو میں روزانہ تقریبا سے زیادہ بچے الگ الگ اسپتالوں میں علاج کیلئے داخل ہورہے ہیں ۔ اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ فیض اللہ گنج ہے ۔ جمعہ کو یہاں 20 بچے وائرل بخار کی زد میں آئے ہیں ۔ بلرام پور اسپتال میں روزانہ 50 سے زیادہ معاملات آرہے ہیں ۔ بلرام پور ، سول ، لوہیا ، رانی لکشمی بائی ، بھاو راو دیورس سمیت دیگر اسپتالوں کو ای پی ڈی میں بخار کے مریضوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے ۔

      فیروز آباد اور متھرا میں بخار کے بعد ہوئی بچوں کی موت کے معاملہ کی جانچ کیلئے مرکزی حکومت کی ٹیم فیروز آباد کے دورہ پر آئی ہوئی ہے ۔ این سی ڈی سی اور این وی بی سی ڈی پی کے پانچ ماہرین کی ٹیم فیروز آباد میں مختلف طرح کے نمونے رہی ہے ۔

      گزشتہ 24 گھنٹے سے نمونے جمع کئے جارہے ہیں ۔ ان نمونوں کی گہرائی سے جانچ کے بعد ہی کہا جاسکے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کیوں ہوئی ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: