ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جہیز کی لعنت کا شکار ہوتی بیٹیاں: کورٹ کچہری میں تباہ ہوتی گلستاں کی زندگی کی آپ بیتی سن کر رہ جائیں گے حیران

جہیز کی لعنت کا شکار ہوکر کئی لڑکیاں خودکشی جیسا قدم بھی اٹھا لیتی ہیں۔ جیسا کہ سب کے رونگٹے کھڑے کردینے والا احمد آباد کی عائشہ کا معاملہ اس کی تازہ مثال ہے۔ ایک ایسا ہی معاملہ اور ہے گلستاں کی شادی نو برس پہلے ہوئی تھی، گلستاں کے مطابق شادی کے کچھ وقت بعد سے ہی شوہر اور اُس کے گھر والوں نے جہیز کے لیے پریشان کرنا شروع کر دیا۔

  • Share this:
جہیز کی لعنت کا شکار ہوتی بیٹیاں: کورٹ کچہری میں تباہ ہوتی گلستاں کی زندگی کی آپ بیتی سن کر رہ جائیں گے حیران
شوہر نے نہ تو گلستاں کو قبول کیا اور نہ ہی طلاق دیا۔

جہیز کی لالچ آج بھی ہمارے سماج میں ازدواجی زندگی کو برباد کرنے کی سب سے بڑی وجہ سابت ہو رہی اور اسکا سب سے زیادہ خمیازہ لڑکیوں کو ہی بھگتنا پڑ رہا ہے ایسا ہی ایک معاملہ میرٹھ کی گلستاں کا بھی ہے جو گزشتہ آٹھ برسوں سے اپنے اور اپنی بیٹی کے لیے عدالت پولیس اور سماج سے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے۔ شادی کے بعد جہیز کے مطالبے یہ آپسی نا اتفاقی کے سبب ازدواجی تعلقات خراب ہونے کی سب سے بڑی قیمت زیادہ تر معاملوں میں لڑکی کو ہی ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس طرح کے زیادہ تر معاملوں میں عدالتی لڑائی لمبے وقت تک چلتی ہے اور لڑکی اپنے گھر والوں پر ہی بوجھ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ میرٹھ کے شاہ پیر گیٹ علاقے کی رہنے والی گلستاں کا بھی ہے۔


گلستاں کی شادی نو برس پہلے ہوئی تھی، گلستاں کے مطابق شادی کے کچھ وقت بعد سے ہی شوہر اور اُس کے گھر والوں نے جہیز کے لیے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران گلستاں کی ایک بیٹی بھی ہوئی لیکن تعلقات خراب ہوتے چلے گئے۔ معاملہ تھانے سے عدالت تک پہنچا لیکن شوہر نے نہ تو گلستاں کو قبول کیا اور نہ ہی طلاق دیا۔ ان نو برسوں میں گلستاں اور ان کے گھر والوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کورٹ سے ریکوری کا حکم بھی جاری ہوا لیکن معاملہ تھانے میں اٹکا رہا۔ پریشان ہو کر گلستاں اور ان کے اہل خانہ نے اب یوگی حکومت (Yogi Adityanath)  سے انصاف کی گہار لگائی ہے۔


وہیں پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کورٹ سے ریکوری کا حکم جاری ہوا ہے اور پولیس آگے کی کارروائی کر رہی ہے۔ جہیز کی لعنت کا شکار ہوکر کئی لڑکیاں خودکشی جیسا قدم بھی اٹھا لیتی ہیں۔ جیسا کہ سب کے رونگٹے کھڑے کردینے والا احمد آباد کی عائشہ کا معاملہ اس کی تازہ مثال ہے۔ ازدواجی زندگی میں آپسی گھریلو تنازعہ کے یہ معاملے طویل عرصے تک کھچنے کی وجہ سے بھی لڑکی اور اس کے گھر والوں کے لیے پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں جس میں انصاف کی اُمید بھی ختم ہو جاتی ہے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Mar 27, 2021 08:53 PM IST