உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سنسنی خیز! باپ اور کئی رشتے داروں سمیت  28 لوگوں نے نابالغ لڑکی کا کیا ریپ، کئی سیاستداں پر بھی معاملہ درج 

    ایک 17 سالہ نابالغ کا پہلے باپ نے 6 سال تک ریپ کیا ، اس کے بعد رشتہ داروں نے بھی  اسے ہوس کا شکار بنایا ، صرف بس اتنا ہی نہیں یہاں بھی باپ نہیں رکا اور بیٹی کو پیسوں کے لیے ہوٹلوں میں بھیج کر جسم فروشی کا دھندہ کروانے لگا۔  بالآخر لڑکی نے ہمت کی اور اپنی ماں کے ساتھ جاکر پولیس سے شکایت کی۔

    ایک 17 سالہ نابالغ کا پہلے باپ نے 6 سال تک ریپ کیا ، اس کے بعد رشتہ داروں نے بھی  اسے ہوس کا شکار بنایا ، صرف بس اتنا ہی نہیں یہاں بھی باپ نہیں رکا اور بیٹی کو پیسوں کے لیے ہوٹلوں میں بھیج کر جسم فروشی کا دھندہ کروانے لگا۔  بالآخر لڑکی نے ہمت کی اور اپنی ماں کے ساتھ جاکر پولیس سے شکایت کی۔

    ایک 17 سالہ نابالغ کا پہلے باپ نے 6 سال تک ریپ کیا ، اس کے بعد رشتہ داروں نے بھی  اسے ہوس کا شکار بنایا ، صرف بس اتنا ہی نہیں یہاں بھی باپ نہیں رکا اور بیٹی کو پیسوں کے لیے ہوٹلوں میں بھیج کر جسم فروشی کا دھندہ کروانے لگا۔  بالآخر لڑکی نے ہمت کی اور اپنی ماں کے ساتھ جاکر پولیس سے شکایت کی۔

    • Share this:
      للت پور میں ایک نابالغ لڑکی نے ضلع کے 28 لوگوں پر عصمت دری کا الزام لگایا جس کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا۔ جن لوگوں پر عصمت دری کے سنگین الزامات لگے ہیں ان میں نابالغ لڑکی کے والد ، رشتہ داروں کے ساتھ کئی مشہور سیاستدانوں کے نام بھی شامل ہیں۔ پولیس نے سب کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ دراصل ایک 17 سالہ نابالغ کا پہلے باپ نے 6 سال تک ریپ کیا ، اس کے بعد رشتہ داروں نے بھی اسے ہوس کا شکار بنایا ، صرف بس اتنا ہی نہیں یہاں بھی باپ نہیں رکا اور بیٹی کو پیسوں کے لیے ہوٹلوں میں بھیج کر جسم فروشی کا دھندہ کروانے لگا۔ بالآخر لڑکی نے ہمت کی اور اپنی ماں کے ساتھ جاکر پولیس سے شکایت کی۔

      ضلع للت پور کے صدر کوتوالی علاقے میں رہنے والی ایک نابالغ لڑکی نے اپنے والد اور خاندان کے کئی افراد پر اسے جسم فروشی کے دھندے میں دھکیلنے کا الزام لگایا تو اس وقت علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ اس معاملے کے منظر عام پر آتے ہی لوگ حیران رہ گئے۔ یہ الزام للت پور کی سیاسی شخصیات پر بھی تھا اس کو لیکر اس معاملے کی بڑے پیمانے پر چرچا ہو رہی ہے ۔

       صرف بس اتنا ہی نہیں یہاں بھی باپ نہیں رکا اور بیٹی کو پیسوں کے لیے ہوٹلوں میں بھیج کر جسم فروشی کا دھندہ کروانے لگا۔
      صرف بس اتنا ہی نہیں یہاں بھی متاثرہ کا باپ نہیں رکا اور بیٹی کو پیسوں کے لیے ہوٹلوں میں بھیج کر جسم فروشی کا دھندہ کروانے لگا۔


      پولیس نے تاخیر کے بغیر ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ لڑکی کے مطابق جب وہ چھٹی کلاس میں پڑھتی تھی۔ اس کے والد اور رشتہ داروں نے اس کے ساتھ غلط رویہ شروع کر دیا تھا۔ کئی بار اس نے اس کی مخالفت کی جس پر اسے مارا پیٹا بھی جاتا تھا۔ اسے نشیلی گولیاں کھلا کر ہوس کا شکار بنایا گیا۔

      کچھ دن پہلے متاثرہ کو آکاش نے موٹر سائیکل پر مادھو نگری لے گیا جہا ں اجئے سرنکر، سندیپ پانڈھرے جمال نامی نوجوسن پہلے سے موجود تھے۔ اکاش نے تینوں سے پیسے وصول کئے اور لڑکی کو حیوانوں کے حوالےکردیا ایسا دو بارکیا۔


      متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ اس کے والد اور رشتہ داروں نے اس کا ریپ کیا۔ کئی سیاستدانوں سمیت 28 لوگوں نے اس کا ریپ کیا۔ الزام ہے کہ اسے 4-5 سال تک یرغمال بنا کر اس کا جنسی استحصال کیا گیا۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ کسی طرح اس نے ہمت جٹائی اور پولیس افسران سے شکایت کی۔ اس کے بعد اسے اس دھندھے آزاد کرایا گیا ہے۔

      شکایت کی بنیاد پر پولیس نے 28 لوگوں کے خلاف تلک یادو ، راجو یادو ، مہندر یادو ، اروند یادو ، پربودھ تیواری ، سونو سمیا ، راجیش جین ، مہندر دوبے ، نیرج تیواری ، مہندر سنگھائی ، دیپک اہیرور ، کوملکانت سنگھائی ، چچا سمیت اور رشتہ داروں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے لڑکی کی حفاظت کے لیے فورس تعینات کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: