ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اس بات کو لے کر آپس میں بھڑ گئیں خواتین ، جم کر چلے لات گھونسے ، ویڈیو دیکھ کر رہ جائیں گے حیران

پرتاپ گڑھ میں خواتین کے ذریعہ مار پیٹ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جم کر وائرل ہورہا ہے ۔ یہ ویڈیو 14 دن پرانا بتایا جارہا ہے ۔ متاثرہ جب ایس پی کے پاس فریاد لے کر پہنچی تو پولیس نے ملزمین کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔

  • Share this:
اس بات کو لے کر آپس میں بھڑ گئیں خواتین ، جم کر چلے لات گھونسے ، ویڈیو دیکھ کر رہ جائیں گے حیران
اس بات کو لے کر آپس میں بھڑ گئیں خواتین ، جم کر چلے لات گھونسے ، ویڈیو دیکھ کر رہ جائیں گے حیران

سوشل میڈیا پر خواتین کے ذریعہ مار پیٹ کا ایک ویڈیو جم کر وائرل ہورہا ہے ۔ یہ ویڈیو پرتاپ گڑھ کا بتایا جارہا ہے  ۔ یہ ویڈیو 14 دن پرانا ہے ۔ ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ ایک خاتون کی بڑی بے رحمی سے پٹائی کی جارہی ہے ۔ یہ معاملہ پرتاپ گڑھ کے پٹی کوتوالی کے پرانی پٹی محلہ کا بتایا جارہا ہے ۔


یہاں پانی بھرنے کے تنازع میں دو فریق کی خواتین میں مار پیٹ ہوگئی ۔ دبنگ خواتین لات ، گھونسے اور ڈنڈوں سے خاتون شیو کماری کی پٹائی کرتی نظر آرہی ہیں ۔ ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ خاتون کو زمین پر گراکر گھسیٹا جارہا ہے ۔ ویڈیو میں فریقین میں کافی دیر تک مارپیٹ ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ نل پر پانی بھرنے کو لے کر علاقہ  کے دبنگوں نے ایک جوڑے کی جم کر پٹائی کی ۔ اس مار پیٹ میں خاتون سمیت تین لوگ زخمی ہوئے ہیں ۔ الزام ہے کہ ایک خاتون کی پٹائی ہونے سے اس کا اسقاط حمل ہوگیا ہے ۔ یہ وائرل ویڈیو 6 فروری کا بتایا جارہا ہے ، لیکن 14 دن کے بعد متاثرہ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔




ایس پی کے حکم کے بعد درج ہوا کیس

معاملہ میں مقامی پولیس کی لاپروائی دیکھئے کہ 14 دنوں تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا ۔ اس کے بعد متاثرہ اپنی فریاد لے کر ایس پی کے پاس پہنچی ، جس کے بعد ایس پی نے حکم دیا تو پٹی کوتوال نے تین خواتین سمیت پانچ لوگوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ۔ وہیں دبنگوں کی گرفتاری کیلئے پولیس دبش دے رہی ہے ۔

پولیس پر پھر اٹھے سوال

پرتاپ گڑھ کی پٹی کوتوالی پولیس پر پہلی مرتبہ سوال نہیں اٹھا ہے ۔ اس سے پہلے بھی پٹی کوتوالی پولیس اپنے کارناموں کی وجہ سے سرخیوں میں رہ چکی ہے ، لیکن اس مرتبہ پٹی میں انصاف پانے کیلئے خاتون کو ایس پی کے پاس فریاد لے کر جانا پڑگیا ۔ آخر مار پیٹ کے 14 دن بعد اعلی افسروں کی مداخلت کے بعد مقامی پولیس نے ملزمین کے خلاف کیس درج کرلیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 23, 2021 08:49 PM IST