உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش : اعظم خان کو پھر لگا ایک بڑا جھٹکا ، اب جوہر یونیورسٹی کا توڑا جائے گا یہ حصہ

    اترپردیش : اعظم خان کو پھر لگا ایک بڑا جھٹکا ، اب جوہر یونیورسٹی کا توڑا جائے گا یہ حصہ

    Rampur News: ڈسٹرکٹ جج کے ذریعہ گیٹ کے سلسلے میں داخل عرضی کو خارج کئے جانے کے بعد اس وقت کے ایس ڈی ایم صدر پی پی تیواری کا مین گیٹ کے سلسلے میں دیا گیا حکم ہی اب حتمی ہوگا اور ضلع انتظامیہ عدالت کے فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے اب کسی بھی وقت یونیورسٹی مین گیٹ کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      رامپور: سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما و رامپور سے رکن پارلیمنٹ اعظم خان کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ اعظم خان کے ذریعہ قائم کی گئی جوہر یونیورسٹی کے مین گیٹ پر بحران کے بادل مزید گھنے ہوتے جارہے ہیں ۔ آج ضلع عدالت نے مین گیٹ توڑے جانے کے ایک فیصلے کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے داخل عرضی کو خارج کردیا ، جس کے بعد اب مین گیٹ کے توڑے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔

      ڈسٹرکٹ جج کے ذریعہ گیٹ کے سلسلے میں داخل عرضی کو خارج کئے جانے کے بعد اس وقت کے ایس ڈی ایم صدر پی پی تیواری کا مین گیٹ کے سلسلے میں دیا گیا حکم ہی اب حتمی ہوگا اور ضلع انتظامیہ عدالت کے فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے اب کسی بھی وقت یونیورسٹی مین گیٹ کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے اور اس کو منہدم کیا جاسکتا ہے ۔

      جوہر یونیورسٹی کے مین گیٹ پر بحران کے بادل مزید گھنے ہوتے جارہے ہیں ۔
      جوہر یونیورسٹی کے مین گیٹ پر بحران کے بادل مزید گھنے ہوتے جارہے ہیں ۔


      خیال رہے کہ سال 2019 میں بی جے پی کے مقامی لیڈر آکاس سکسینا نے ضلع انتظامیہ سے جوہر یونیورسٹی کے مین گیٹ کو سرکاری زمین پر غیر قانونی طور سے بنائے جانے کی شکایت کرتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ شکایت کو بنیاد بناتے ہوئے ایس ڈی ایم صدر نے پورے معاملے کی سماعت کرنے کے بعد گیٹ کو غیر قانونی زمین پر تعمیر کئے جانے کو تسلیم کرتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا حکم دیا تھا ۔ ایس ڈی ایم کے اسی فیصلے کو یونیورسٹی انتظامیہ نے ضلع عدالت میں چیلنج کیا تھا ، جسے آج خارج کردیا گیا ۔

      غور طلب ہے کہ سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خان گزشتہ ڈیڑھ سالوں سے سیتاپور جیل میں بند ہیں ۔ فی الحال وہ لکھنو کے میدانتا اسپتال میں زیر علاج ہیں ، جہاں ان کا پوسٹ کورونا علاج جاری ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: