ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یو پی : یوگی حکومت کیوں نہیں مان رہی ہے عدالتوں کے فیصلے؟

جمہوری نظام میں عدالتوں کے فیصلوں پر حکو مت کی طرف سے عمل کرنے کی روایت رہی ہے۔ حکومت اگر عدالت کے کسی فیصلے سے اتفاق نہیں رکھتی تو وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر سکتی ہے لیکن یو پی میں یوگی حکومت اس معاملے میں ایک نئی مثال قائم کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت نے عدالتوں کے بعض اہم فیصلوں کو نافذ نہ کرکے قانون دانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔

  • Share this:
یو پی : یوگی حکومت کیوں نہیں مان رہی ہے عدالتوں کے فیصلے؟
ریاستی حکومت نے عدالتوں کے بعض اہم فیصلوں کو نافذ نہ کرکے قانون دانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

جمہوری نظام میں عدالتوں کے فیصلوں پر حکو مت کی طرف سے عمل کرنے کی روایت رہی ہے۔ حکومت اگر عدالت کے کسی فیصلے سے اتفاق نہیں رکھتی تو وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر سکتی ہے لیکن یو پی میں یوگی حکومت اس معاملے میں ایک نئی مثال قائم کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت نے عدالتوں کے بعض اہم فیصلوں کو نافذ نہ کرکے قانون دانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ اس کی تازہ مثال الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں سے بھی ہوتی ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ 16 اکتوبر کو ایک اہم فیصلہ دیا جس میں یوگی حکومت کی طرف سے جائیدادوں اورمکانوں کو منہدم کرنے کی کار روائیوں پر ایک ماہ تک کے لئے روک لگا دی ہے لیکن عدالت کی طرف سے مکانوں کو منہدم نہ کئے جانے کے حکم کے با وجود عمارتوں کو زمین دوزکرنے کی یوگی حکومت کی کا رروائی لگاتار جاری ہے ۔ گزشتہ کئی مہینوں سے یوگی حکومت نے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے لینڈ مافیاؤں اور سیاسی شخصیات کے خلاف بڑی کارروائیوں کا آ غاز کر رکھا ہے ۔


اس کے تحت یوگی حکومت نے بڑے پیمانے پر جائدادوں کو منہدم کرنے کی کار روائی شروع کی ہے ۔ ان کار روائیوں پر الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کا کوئی اثر نہیں دکھائی پڑ رہا ہے ۔ مقامی انتظامیہ کی مدد سے شروع کی گئی یوگی حکومت کی کار روائی کا دائرہ اب دن بہ دن اور وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ کار روائی میں شہر کے بلڈرذوالفقار علی کے چکیہ علاقے میں واقع مکان کو منہدم کر دیا گیا ہے ۔ اس پہلے یوگی حکومت نے سماج وادی پارٹی کے سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد اور ان کے بھائی سابق ایم ایل اے خالد اشرف کے خلاف کا واقع نہایت قیمتی جائدادوں کو اب تک منہدم کیا جا چکا ہے ۔


ان میں محمد عباس ، ارشاد ، شائستہ پروین ، محمد زید ، محمد قمر ،محمد حمزہ کے بنگلے اور فارم ہاؤس شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ عتیق احمد سے تعلق رکھنے والے بعض افرا د کی جائدادوں کو بھی منہدم کیا جا رہا ہے ۔ ریاستی حکومت کی ان کار روائیوں کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں کئی عرضیاں داخل کی گئی ہیں ۔ گذشتہ ۱۶؍ اکتوبر کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو واضح حکم دیا تھا کہ ایک ماہ تک ریاست میں کسی بھی عمارت کو منہدم نہ کیا جائے ۔ لیکن یوگی حکومت نے عدالت کے حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی انہدامی کار روائی کا سلسلہ جا ری رکھا ہے ۔


ریاستی حکومت کی ان کار روائیوں سے مسلم علاقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے ۔ مکانوں کو منہدم کرنے کی کارروائی پولیس فورس کی بھاری موجودگی میں کی جا رہی ہے ۔ اگرچہ مقامی انتظامیہ نے رام لوچن یادو اور دلیپ مشرا جیسے ہسٹری شیٹر کے خلاف بھی کار روائی کی ہے ۔ لیکن انتظامیہ کی بیشتر انہدامی کارروائیاں مسلم اکثریتی علاقوں میں ہی دیکھنے کو مل رہی ہیں ۔ جبکہ مقامی انتظامیہ اس بات سے انکار کر رہی ہے کہ وہ کسی مخصوص فرقے کو نشانہ بنا رہی ہے ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوعمارتیں غیر قانونی طریقے سے بنائی گئی ہیں، انہیں کو منہدم کیا جا رہا ہے ۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 20, 2020 02:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading