ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش : معاشی تباہی سے بنیادی تعلیمی نظام متاثر ، بد حالی کا شکار ہیں بیشتر تعلیمی ادارے

معاشی بدحالی اور تباہی کے اثرات یوں تو زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوئے ہیں ، لیکن جتنا متاثر بنیادی تعلیم فراہم کرنے والے نجی ادارے ہوئے ہیں اتنا کوئی نہیں ہوا ہے ۔

  • Share this:
اترپردیش : معاشی تباہی سے بنیادی تعلیمی نظام متاثر ، بد حالی کا شکار ہیں بیشتر تعلیمی ادارے
اترپردیش : معاشی تباہی سے بنیادی تعلیمی نظام متاثر ، بد حالی کا شکار ہیں بیشتر تعلیمی ادارے

لکھنو : اگر عوامی امداد سے چلنے والے تعلیمی اداروں کو تحفظ نہ فراہم کیا گیا تو ایک بڑا غریب طبقہ تعلیم کے حصول سے محروم رہ جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار لکھنو میں امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ  تعلیمی اجلاس میں کیا گیا ۔  اس اجلاس میں شریک دانشوروں نے واضح طور پر کہا کہ بشمول مدارس اور پرائمری اسکول، عوامی امداد سے چلنے والے تمام تعلیمی ادارے بد حالی کی گرفت میں ہیں ۔ اگر بات اتر پردیش کے پس منظر میں کی جائے تو  کورونا کے سبب خراب ہوئی حالت کی وجہ مختلف قصبوں اور دیہات و مضافات کے دو سو سے زیادہ پرائویٹ مدارس بند ہو چکے ہیں اور تقریباً چارسو نجی مدارس اور بنیادی تعلیم فراہم کرنے والے اسکول ایسے ہیں ، جو کسی طرح اس نظام کو بچائے ہوے تو ہیں لیکن ان کے معیار کو قائم نہیں رکھ سکے ہیں ۔


امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے بانی و مہتمم علی حسین قمی کہتے ہیں کہ سرکاروں نے تو ہمیں پہلے ہی مایوس کردیا ہے ، گزشتہ بیس سال سے مسلسل مطالبوں کے باوجود بھی ہمارے لئے کچھ نہیں کیا ہے اور اب معاشرے کے وہ لوگ بھی تعاون نہیں کر پارہے ہیں جو بنیادی سطح پر چلائے جانے والے اداروں کے لئے آکسیجن کا کام کرتے تھے۔ بڑی وجہ تو یہی ہے کہ کورونا اور بڑھتی مہنگائی نے پورے معاشی نظام کو تباہ و برباد کردیاہے ، جس کے منفی اثرات زندگی کے دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے پر زیادہ پڑے ہیں ۔


انہوں نے کہا کہ سرکاریں تو اپنے مسائل بھی حل کرلیتی ہیں اور انہیں وسائل بھی مل جاتے ہیں لیکن وہ ادارے کیسے زندہ رہیں جو پوری طرح سماج کے صاحب ثروت حضرات اور گاہے بہ گاہے چندہ  دینے والے لوگوں کے مرہون منت ہیں ۔ مولانا اعتراف کرتے ہیں کہ امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ ایک وقت میں دوسو بچوں کی کفالت و تعلیم و تربیت کا انتظام و اہتمام کرتا تھا ، لیکن آج یہ تعداد گھٹ کے بیاسی 82 بچوں تک رہ گئی ہے اور یہ بھی اس لئے جاری ہے کہ ٹرسٹ سے جڑے لوگ ذاتی طور پر ہر ممکن تعاون سے کسی طرح تعلیمی نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔


معروف عالم دین مولانا قاری یوسف کہتے ہیں کہ مدارس کے طلبہ کسم پرسی اور نہایت پریشانی کے دور سے گزر رہے ہیں ۔ ذہنی طور پر حکومت نے پریشان کر رکھا ہے اور معاشی صورت حال کو کورونا نے تباہ کردیا ہے ۔ کسی طرح دور دراز کے بچوں کے کھانے اور رہنے کا انتظام کیا جاتا ہے ، لیکن  یہ سلسلہ کب تک برقرار رکھ پائیں گے یہ خدا ہی جانتا ہے ۔ ہم خدا کے رحم و کرم سے مایوس نہیں ، لیکن حکومت  کی سرد مہری عدم توجہی اور  متعصبانہ روش سے فکر مند ہیں ۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ مہنگائی بڑھنے اور کاروبار تباہ ہونے کے سبب اب عام لوگ بھی ان اداروں کے طرف متوجہ نہیں ہو پارہے ہیں ۔ ایسی صورت میں تمام مذاہب کے غریب لوگوں بالخصوس خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے اقلیتی طبقے کے بچوں کو بنیادی سطح پر دینی و دنیاوی تعلیم فراہم کرنے والے یہ نجی ادارے کیسے اور کب تک خود کو زندہ رکھ پائیں گے یہ کہنا مشکل ہے ۔

معروف عالم دین مولانا علی حسن راجانی کہتے ہیں کہ ہم نے سرکاری دفتروں اور وزیروں کے گھروں کے اتنے چکر لگائے ہیں کہ اب خود شرمندہ و پشیمان ہوکر یہ کہنا پڑتا ہے کہ اقلیتی بہبود کے دعوے نعرے اور اسکیمیں کاغذوں پر غریب لوگوں کا تعاون کرتی ہیں ، لیکن حقیقت میں لوگ ان سے محروم ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 05, 2021 06:47 PM IST