ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سیکس پاور بڑھانے کیلئے ایک کروڑ کے کچھوؤں کی کر رہے تھے اسمگلنگ، ایسے کھلا بڑا راز

ڈکٹر راجیو چوہان بتاتے ہیں کہ آگرہ کے پنہاٹ اور ایٹاوا کے گیان پوری اون بنسری میں دو ذاتی ایسی ہیں جو کچھوئے کے چپس بنانے کا کام کرتی ہیں۔ کچھوئے کی نچلی سطح جسے پلیسٹران کہتے ہیں کو کاٹ کت الگ کر لیتے ہیں۔ اسے کئی گھنٹوں تک پانی میں ابالا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس پرت کو سکھا کر اس کے چپس بنائے جاتے ہیں۔ ای کلو وزن کے کچھوئے سے 250 گرام تک چپس بن جاتے ہیں۔ نلسونیا گینگٹس اور چترا انڈیکا نام کے کچھوئے کی پرجاتیوں (قسم) سے پلیسٹران نکالے جاتے ہیں۔

  • Share this:
سیکس پاور بڑھانے کیلئے ایک کروڑ کے کچھوؤں کی کر رہے تھے اسمگلنگ، ایسے کھلا بڑا راز
یوپی کے ایٹاوا Etawah) میں زبردست سردی کے ساتھ ہی کچھوؤں کی اسمگلنگ معاملے سامنے آنے لگے ہیں

یوپی کے ایٹاوا Etawah) میں زبردست سردی کے ساتھ ہی کچھوؤں کی اسمگلنگ کے معاملے سامنے آنے لگے ہیں۔ ایک کروڑ سے زیادہ کی رقم کے کچھوؤں کے ساتھ پکڑی گئی تیس کلو کیلپی (چپس) کے بارے میں جنگلی حیات کے ماہرین (Wildlife experts) نے کئی اہم اطلاعات دیں۔ جنگلی حیات کے ماہرین اور سوسائٹی فار کنزروئشب آف نیچر کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر راجیو چوہان نے دعویٰ کیا ہے کہ محکمہ جنگلان اور سیفئی پولیس نے شترکہ مہم میں تقریبا ایک کروڑ سے زیادہ کی رقم کے 2583 کچھوئے برآمد کئے ہیں۔ ان میں سے دو کی مور ہو گئی۔ پولیس محکمہ جنگلار کی مشترکہ مہم میں کچھوا اسمگلروں کے پاس سے تقریبا 30 کیلپی یعنی چپس بھی برآمد کی گئی ہے۔ اتنی چپس کے لئے کم از کم ایک سو کچھوؤں کو مارا گیا ہوگا۔


کورونا وائرس کے دور میں کچھوؤں کی اسمگلنگ کا پہلا معاملہ

ماہرین نے کہا کہ یقینی طور پر کچھوے کے اسمگلروں نے چپس بنانے کے لئے گرمیوں کے سیزن یعنی مئی جون میں کچھوؤں کو مار کر چپس بنا ڈالی ہوگی۔ کورونا وائرس کے دور میں کچھوؤں کی اسمگلنگ کا یہ پہلا معاملہ ہے۔ ایٹاوا Etawah) سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رورل اوم ویر سنگھ بتاتے ہیں کہ کچھووں سے بنے اتنے چپس کی قیمت کم سے کم 30 لاکھ روپے ہوگی۔ ڈاکٹر راجیو چوہان کا کہنا ہے کہ 1979 میں حکومت نے کچھوؤں سمیت دوسرے (Aquatics) کو بچانے کیلئے چمبل سے متصل 425 کلو میٹر پھیلے ساحلی علاقے کو (National Chambal Century) قرار دیا تھا۔ باوجود اس کے 1980 سے اب تک ایک لاکھ کے آس۔پاس کچھوئے برآمد کئے جا چکے ہیں۔ اب تک 100 سے اوپر اسمگلر پکڑے گئے ہیں۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب اتنے پکڑے گئے ہیں تو کتنے ہزار کچھوؤں کی اسمگلنگ ہو چکی ہوگی۔


ایسے بنتے ہیں کچھوؤں کے چپس
ڈکٹر راجیو چوہان بتاتے ہیں کہ آگرہ کے پنہاٹ اور ایٹاوا کے گیان پوری اون بنسری میں دو ذاتی ایسی ہیں جو کچھوئے کے چپس بنانے کا کام کرتی ہیں۔ کچھوئے کی نچلی سطح جسے پلیسٹران کہتے ہیں کو کاٹ کت الگ کر لیتے ہیں۔ اسے کئی گھنٹوں تک پانی میں ابالا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس پرت کو سکھا کر اس کے چپس بنائے جاتے ہیں۔ ای کلو وزن کے کچھوئے سے 250 گرام تک چپس بن جاتے ہیں۔ نلسونیا گینگٹس اور چترا انڈیکا نام کے کچھوئے کی پرجاتیوں (قسم) سے پلیسٹران نکالے جاتے ہیں۔
سیکس پاور بڑھاتے ہیں کچھوئے کے چپس
ایٹاوا کی ندیوں اور تالاب میں 11 قسم کے کچھوئے پائے جاتے ہیں لیکن چپس نلسونیا گینگٹس اور چترا انڈیکا سے ہی نکالی جاتی ہے۔ اصل میں کچھوئے کی چپس سے بننے والے سوپ کے استعمال سے جسمانی طاقت (sex power) میں اضافہ ہوتا ہے۔ سوپ کے استعمال کے بعد سیکس پاور بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے کچھوئے کی چپس کا سوپ تھائی لینڈ، ملیشیا اور سنگاپور میں کافی مہنگا بکتا ہے۔

سال 2000 میں آیا تھا اسمگلنگ کا پہلا معاملہ
ویسے سب سے پہلے سال 2000 میں کچھوؤں کی چپس بنائے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا لیکن تب اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ کچھوؤں کی اسمگلنگ کے بجائے ان کی چپس بھی بناکر کے اس ڈھنگ سے بازار میں اتاری جاتی ہے۔ لیکن اب زندہ کچھوا کے بجائے کچھوؤں کے چپس کا کاروبار بڑے پیمانے پر چل نکلا ہے جو ہندستان کے راستے ہوتے ہوئے تھائی لینڈ، ملیشیا اور سنگاپور وغیرہ ممالک تک جا پہنچا ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Dec 04, 2020 01:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading