ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شوہر کی موت کے بعد اس شمشان گھاٹ میں خواتین کرتی ہیں ایسا کام جان کر حیران رہ جائیں گے آپ

دو بیوہ خاتون مجبوری میں شمشان گھاٹ پر آنے والی لاشوں کی آخری رسوم کو ادا کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔ گزشتہ سات سالوں شمشان گھاٹ میں جلائی جانے والی لاشیں دو غریب خواتین کی زندگی کا سہارا بن رہی ہیں۔

  • Share this:
شوہر کی موت کے بعد اس شمشان گھاٹ میں خواتین کرتی ہیں ایسا کام جان کر حیران رہ جائیں گے آپ
شمشان گھاٹ میں جلائی جانے والی لاشیں دو غریب خواتین کی زندگی کا سہارا بن رہی ہیں۔

یوپی کے جونپور میں ایک شمشان گھاٹ ایسا ہے جہاں پر دو خاتون لاشوں (Dead Bodies) کی آخری رسوم ادا (Last Rites) کرنے کا کام کرتی ہیں۔ ہندو مذہب میں خواتین عام طور پر شمشان گھاٹ نہیں جاتی ہیں لیکن یہ دو بیوہ خواتین مجبوری میں شمشان گھاٹ پر آنے والی لاشوں کی آخری رسوم کو ادا کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔ گزشتہ سات سالوں شمشان گھاٹ میں جلائی جانے والی لاشیں دو غریب خواتین کی زندگی کا سہارا بن رہی ہیں۔


جونپور میں گنگا کے کنارے پر واقع کھٹہن کے پلکچھا گھاٹ پر گاؤں کے لوگ لاشوں کی آخری رسوم ادا کرتے ہیں۔ یہاں پر روزانہ تقریبا 8-10 لاشیں جلائی جاتی ہیں۔ لاش جلانے کا ذمہ دو خواتین پر ہے۔ یہ خواتین لاش کو آخر تک جلاتی ہیں۔ اس کے عوض میں جو 100-200 تو کبھی 500 روپئے تک مل جاتے ہیں۔ اسی سے ان کی فیملی کا گزارا ہوتا ہے۔ حالانکہ مرد سمال نے شروعاتی دنوں میں شمشان گھاٹ میں خواتین کی موجودگی کی کافی مخالفت کی لیکن خواتین نے ایک نہ سنی۔

بتادیں کہ تقریبا سات سال پہلئ جب مہریتا کے شوہر کا انتقال ہوگیا تو گھر میں مالی حالات کمزور ہوگئے اور کافی پریشانیاں ہونے لگیں۔ کچھ نہ سوجھا تو تو مہریتا نے چتا جلانے کا کام شروع کر دیا۔ اس کے شمشان گھاٹ پہنچتے ہی مرد سماج سکتے میں آگیا۔ مذۃب کا حوالہ دیتے ہوئے اسے یہ کام کرنے سے منع کیا گیا لیکن مہریتا نے بچو ں کی بھوک کا حوالہ دیتے ہوئے کام چھوڑنے سے منع کر دیا۔ وہیں اس کام میں لگی دوسری خاتون سریتا کا کہنا ہے کہ ان کا آٹھ سال کا بیتا ہے اور دو بیٹیاں ہیں۔ مجبوری میں انہوں نے اس پیشے کو منتخب کیا ہے۔ انہیں اب کوئی پچھتاوا نہیں ہئ۔ وہ اس کام کو کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔

سماج کی نہیں ہے کوئی فکر: خواتین


خواتین کا کہنا ہے کہ شمشان گھات پر لاشوں کی آخری رسوم کیلئے کام میں شرعاتی دنوں میں تھوڑی دقت آئی تھی لیکن اب سب کچھ نارم ہوگیا ہے۔ لوگ بھی کافی داتھ دیتے ہیں۔ دونوں خواتین نے بتایا کہ ایک لاش جلانے پر پچاس روپئے سے لیکر پانچ سو تک روپئے مل جاتے ہیں۔ دن بھر میں دو۔تین لاش جلا لیتے ہیں جس سے گھر کا گزارا کرنےکیلئے شمشان گھات پر جلنے والی لاشیں اب سہارا بن رہی ہیں۔

(رپورٹ: منوج پٹیل)۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 15, 2020 01:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading