உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتر پردیش اردو اکادمی، ٹوٹتا جمود اور اہل اردو کی توقعات

    ایک طویل عرصے کے بعد اتر پردیش اردو اکادمی فعال ہوتی نظر آئی لیکن دوسری طرف اسمبلی الیکشن کی تیز ہوتی آہٹیں اور دستکیں یہ اشارہ دے رہی ہیں کہ نئے منصوبوں اور خاکوں میں رنگ بھرنا واقعی دشوار ہے۔

    ایک طویل عرصے کے بعد اتر پردیش اردو اکادمی فعال ہوتی نظر آئی لیکن دوسری طرف اسمبلی الیکشن کی تیز ہوتی آہٹیں اور دستکیں یہ اشارہ دے رہی ہیں کہ نئے منصوبوں اور خاکوں میں رنگ بھرنا واقعی دشوار ہے۔

    ایک طویل عرصے کے بعد اتر پردیش اردو اکادمی فعال ہوتی نظر آئی لیکن دوسری طرف اسمبلی الیکشن کی تیز ہوتی آہٹیں اور دستکیں یہ اشارہ دے رہی ہیں کہ نئے منصوبوں اور خاکوں میں رنگ بھرنا واقعی دشوار ہے۔

    • Share this:
    ایک طویل عرصے کے بعد اتر پردیش اردو اکادمی  کے ایک بار پھر فعال ہونے سے  اہل اردو کو یہ یقین ہونے لگا ہے کہ اب تعطل کا شکار  ہوئے سارے کام عنقریب ہی پورے ہوجائیں گے اور اس یقین کو پورا کرنے کے کی کئی سمتوں میں اکادمی کے ذمہداران کی جانب سے خصوصی پیش رفت بھی کی گئی ہے  خاص طور پر  اکادمی کے تحت چلائے جانے والے اہم ادارے  “اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر “ کو بہتر بنانے  اسے وسعت دینے اور بہتر نتائج اخذ کرنے کے لئے اب خصوصی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اکادمی کے سکرٹری معروف آئی اے ایس،  زہیر بن صغیر نے اپنے عہدے کی ذمہداری سنبھالنے  اور اکادمی کے چئر مین چودھری کیف الوریٰ  اور آئی اے ایس سنٹر کے ڈائرکٹر  سابق  ڈی جی پی  ، رضوان احمد کے ساتھ مشورہ کرنے کے  بعد اس باب میں خصوصی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اس کے علاوہ زہیر بن صغیر نے اردو اور اہل اردو کی فلاح و بہبود کے پس منظر میں ، نئے کمپیوٹر سینٹر کے قیام، اور اتر پردیش کے ہر شہر و قصبے میں موبائل لائبریری کے انتظام کے لئے بھی خصوصی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اہل اردو کو ان کی پسندیدہ کتب ان کے اپنے علاقے میں ہی کم قیمت پر دستیاب کرائی جاسکیں گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس کورونا کے سبب اکادمی کی جانب سے دئے جانے والے مختلف زمروں کے انعامات کی تقسیم نہیں کی جاسکی تھی  لیکن اس سال کے انعامات کے لئے  مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوچکی ہے۔ اہم اور چونکانے والی بات یہ ہے کہ میٹنگ کے بعد ابھی تک ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے جبکہ اکادمی کے دستور  و ضابطوں کے مطابق یہ فوراً ہوجانا چاہئے تھا۔ اس باب میں زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ اہل اردو کو کسی طرح کی غلط فہمیوں میں پڑھنے اور بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ضمن میں جلد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا ساتھ ہی گزشتہ برس کے انعامات کی تقسیم کے حوالے سے بھی حکومت کو تحریری طور پر مطلع کردیا گیا ہے اس باب میں بھی ہم سنجیدہ پیش رفت کر رہے  ہیں ۔واضح رہے کہ مزکورہ اسٹڈی  سینٹر کا قیام ۲۰۱۵ میں سماج وادی پارٹی کے دور اقتدار میں ہوا تھا اور اسے سماج وادی پارٹی کے سربراہ  رفیق الملت ملائم سنگھ کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔

    اس اسٹڈی سینٹر کے قیام میں اُس وقت کے اہم لیڈیر اعظم خاں نے بنیادی رول ادا کیا تھا لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمام تر سہولیات فراہم کرانے کے باوجود بھی گزشتہ برسوں میں وہ نتائج اخذ نہیں کئے جاسکے جس کے لئے اس اسٹڈی سینٹر کا قیام عمل میں آیا تھا۔اتر پردیش اردو اکادمی کے موجودہ سکرٹری زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ ماضی میں الجھنے اور گزرے ہوئے وقت پر رونے سے بہتر ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے حال و مستقبل کو بہتر اور روشن بنانے کی کوششیں کی جائیں۔ اسی نظریے کے تحت زہیر بن صغیر نے آئی ای ایس اور پی سی ایس کی کو چنگ میں داخلے کے متمنی طلبا و طالبات کے لئے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ زہیر بن صغیر خود ایک آئی ای ایس ہیں اور بہترکام کرنے کےلئے ساہتیہ سمان جیسے اہم ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں اس لئے اہل اردو  کو یقین ہے کہ اب اس اسٹڈی سینٹر سے بہتر نتائج برآمد ہو سکیں گے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ چھ سال میں یہ ادارہ ایک بھی آئی اے ایس  یا  پی سی ایس نہیں دے سکا ہے جبکہ اس اسٹڈی سنٹر میں پڑھنے والے اقلیتی بچوں کو کھانے پینے اور رہائش  کے ساتھ ساتھ تیاری کے لئے کتب اور دیگر تعلیمی سہولیات  بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں بہترین سہولیات کی مفت فراہمی کے بعد بھی مطلوبہ  نتائج کا نہ ملنا افسوس ناک ہے۔

    زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ آئی ای ایس اور پی سی ایس کی تیاری کرنے والے طلبا و طالبات کے تعلیمی معیار کو پرکھنے کے بعد ہی انہیں داخلہ دیا جانا چاہئیے جب تک ہم تعلیمی اعتبار سے معیاری  محنتی اور سول سروسز  میں غیر معمولی دلچسپی رکھنے والے بچوں کو منتخب نہیں کریں گے ہمیں اچھا رزلٹ  نہیں مل سکے گا ۔ اس حوالے سے زہیر بن صغیر نے ایک اہم منصوبہ اور خاکہ تیار کرلیا ہے جس کے تحت داخلے کے پروسز کو بہتر بنایا جائے گا اور اس کے بعد  کو چنگ فراہم کرنے کے لئے بہترین اساتذہ کے ساتھ ساتھ سینئر آئی اے ایس اور پی سی ایس افسروں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی  ان افسروں کے خصوصی لیکچروں  اور تجربات کے ذریعے بچوں کو خصوصی تعلیم و تربیت دی جائے گی ۔ زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ اکادمی کے نو منتخب چئر پرسن چودھری کیف الوریٰ ایک ذہین اور دورندیش انسان ہیں لہٰذا وہ بھی اس ادارے کو بہتر۔ بنانے کے خواہاں ہیں ساتھ ہی اتر پردیش کے سابق ڈی جی پی رضوان احمد کے جذبوں اور تجربوں سے بھی ہم استفادہ کرکے اس اسٹڈی سنٹر کو اس منزل و مقام تک لے جائیں گے جس کے حصول کے لئے اسے قائم کیا گیاتھا۔

    واضح رہے کہ اتر پردیش اردو اکادمی کے تحت چلائے جارہے اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر میں ایک بار پھر  اقلیتی طبقوں کے طلبا وطالبات کو مفت کوچنگ فراہم  کرانے کے لئے داخلے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے یہ ادارہ صرف مسلم بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ سبھی  اقلیتی طلبا و طالبات کو مفت کوچنگ فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔ زہیر بن صغیر کی جد وجہد عزم اور حوصلے اور وضع کی گئی حکمت عملی سے لگتا ہے کہ اس بار اتر پردیش اردو اکادمی کے اس ادارے سے بہتر نتائج ضرور برآمد ہوں گے ۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ زہیر بن صغیر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جیسےاہم ادارے اور بی ایچ یو سمیت کئی تعلیمی اداروں سے رابطہ کرکے ایسے اقدامات کرنے میں مصروف ہیں جن کے سبب مشترکہ کوششوں سے اردو فلاح و بہبود پر مشتمل کچھ نئے اور پرانے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: