உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گیان واپی مسجد کیس: سروے ہوگا یا نہیں? آج آئے گا فیصلہ، فریقین کے درمیان تین دن ہوئی بحث

    Youtube Video

    Gyanvapi Vs Kashi Vishwanath Temple: غور طلب ہے کہ سب کی نگاہیں وارانسی ضلع عدالت کے فیصلہ پر ٹکی ہوئی ہیں، اب دیکھنا ہے کہ جج سروے کے لئے کیا نئی تاریخ مقرر کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ گیان واپی مسجد میں سروے پر گھمسان مچا ہوا ہے۔ ہندو اور مسلم فریقین مد مقابل ہیں۔

    • Share this:
      وارانسی، Gyanvapi Vs Kashi Vishwanath Temple: کاشی وشوناتھ دھام-گیان واپی میں واقع ماں شرنگر گوری اور دیگر دیوتاؤں کے سروے کے معاملے میں تین دنوں سے جاری تمام فریقوں کی بحث بدھ کو مکمل ہو گئی۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والے دلائل سننے کے بعد عدالت نے حکم امتناعی کے لیے 12 مئی کی تاریخ مقرر کی۔
      گیان واپی مسجد  (Gyanvapi Mosque) کے معاملے میں سروے پر سے سسپینس آج ہٹ سکتا ہے کیونکہ آج وارانسی کی ضلع عدالت میں اس معاملہ پر سماعت کرنے جا رہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ عدالت آج گیان واپی معاملہ پر کوئی نہ کوئی فیصلہ سنا سکتی ہے۔ وارانسی کی عدالت اس معاملہ پر آج دوپہر 2 بجے سماعت کرے گی۔

      کورٹ کے حکم پر احاطے کے نیچے شرنگار گوری اور دیوتاؤں کا سروے کیا جائے گا۔ احاطے کا سروے اس دعوے کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جس میں ہندو فریق کے ایک طبقے کا ماننا ہے کہ بنارس میں اورنگ زیب نے کاشی وشو ناتھ مندر کو توڑ کر اور اس کے باقیات کے ذریعہ گیان واپی مسجد کی تعمیر کرائی تھی، جس کی بنیاد پر عدالت نے ویڈیو گرافی کے ساتھ سروے کے احکامات دیئے ہیں۔

      یہ بھی پڑھئے: food crisis: پاکستان کے 3صوبوں پرچھائے فوڈبحران کے سیاہ بادل، خیبرپختونخوا میں پانی کی قلت

      گیان واپی معاملہ میں فیصلہ سنائے جانے کی امید اس لئے کی جا رہی ہے کیونکہ منگل کے روز سماعت کے دوران جج نے کہا تھا کہ ضرورت پڑی تو عدالت خود موقع پر جائے گی اور کمیشن کی کارروائی انجام دے گی۔ عدالت میں سماعت کے دوران جج کے اس بیان سے دونوں فریق نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں فریقوں کا کہنا ہے کہ جج کی موجودگی میں سروے ہوگا تو اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

      مزید پڑھئے: سرکاری تیل کمپنیوں نے جاری کئے Petrol-Diesel کے دام، یہاں جانئے آپ کے شہر کی نئی قیمتیں۔۔۔

      اس سے پہلے کورٹ کمشنر کی تبدیلی کے سوال پر عدالت میں دونوں فریقین میں خوب بحث ہوئی۔ ہندو فریق نے دلیل دی کہ سروے کا کام شروع ہو چکا ہے، لہذا کورٹ کمشنر کو تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جبکہ مسلمانوں کی دلیل ہے کہ سروے کا کام دوبارہ کرایا جائے۔



      غور طلب ہے کہ سب کی نگاہیں وارانسی ضلع عدالت کے فیصلہ پر ٹکی ہوئی ہیں، اب دیکھنا ہے کہ جج سروے کے لئے کیا نئی تاریخ مقرر کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ گیان واپی مسجد میں سروے پر گھمسان مچا ہوا ہے۔ ہندو اور مسلم فریقین مد مقابل ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: