ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اتر پردیش: آئین میں دئے گئے اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کو روکا جائے

اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے ۔ اگر حکومت آئین میں دئے گئے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہتی ہے تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ تصور کیا جائے گا۔

  • Share this:
اتر پردیش: آئین میں دئے گئے اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کو روکا جائے
اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے ۔ ا

اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے ۔ اگر حکومت آئین میں دئے گئے حقوق کے تحفظ میں  ناکام رہتی ہے تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں  کا معاملہ تصور کیا جائے گا۔ ملک کے آئین میں اقلیتوں کو جو حقوق  دئے گئے ہیں ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اقلیتی فرقے کو اپنے مذہبی  عقائد کے مطابق تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کے انتظامات اپنے نگرانی میں  چلانے کے اختیارات دئے گئے ہیں۔ اگر کوئی حکومت اپنے آئینی فرائض کو ادا نہیں کر رہی ہے تو وہ  اقلیتوں کے حقوق کی پامالی  کا ارتکاب  کر رہی ہے۔ ان خیالات  کا اظہار دینی مدارس میں ہونے والے یوم ا قلیتی حقوق کے موقع پر منعقدہ مختلف پروگراموں کے دوران  کیا گیا۔  یوم  اقلیتی حقوق کے موقع پر دینی مدارس کے ذمہ داران نے آئین میں دئے گئے ان حقوق کی نشاندہی کی جو خصوصی طور سے  اقلیتی فرقے  کو دئے گئے ہیں۔


ریاستی حکومت سے امداد یافتہ ممتاز اسلامی درس گاہ جامعہ امامیہ ا نوار العلوم میں  منعقد ہونے والی  ایک تقریب میں دینی مدارس کے ذمہ داران اور اساتذہ نے شرکت کی ۔ ا س موقع پر امداد یافتہ دینی مدارس کے ذمہ داران نے مطالبہ کیا  کہ حکومت دینی مدارس کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کرے۔ مدارس کے ذمہ داران نے دینی مدارس میں خدمات انجام  دینے  والے سائنس ٹیچروں کی تنخواہ  کی ادائیگی نئے اساتذہ کی تقرری اور امتحان کی کاپی ویلوایشن کا اعزازیہ فوری طور سے ادا کرنے کا مطالبہ کیا کیا


جامعہ اما میہ انوار العلوم کے پرنسپل سید جواد حیدر جوادی نے ریاست کے امداد یافتہ دینی مدارس کی علمی اور قومی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس وہ مقام ہے جہاں ملک کی سب سے بڑی اقلیت سے تعلق رکھنے والے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔  جواد حیدرجوادی کا کہنا تھا کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے حقوق  کا تعین بڑی حد تک دینی مدارس سے کیا جا سکتا ہے ۔ ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ وہ دینی مدارس سمیت اقلیتوں کے تمام  آئینی حقوق  کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ واضح رہے کہ یو پی میں حکومت سے مالی امداد یافتہ دینی مدارس کی تعداد پانچ سو ساٹھ ہے جس میں تقریباً نو ہزار سے زیادہ اساتذہ طلباء و طالبات کو تعلیم دے رہے ہیں ۔

Published by: sana Naeem
First published: Dec 18, 2020 06:58 PM IST