உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواتین کے تعلیمی مسائل اور ہمارا سماجی و تعلیمی نظام 

    کسی بھی معاشرے اور ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اس معاشرے کی خواتین کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنادیا جائے اور ہمہ جہت ترقی کے لئے تعلیمی استحکام شرط ہے۔

    کسی بھی معاشرے اور ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اس معاشرے کی خواتین کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنادیا جائے اور ہمہ جہت ترقی کے لئے تعلیمی استحکام شرط ہے۔

    کسی بھی معاشرے اور ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اس معاشرے کی خواتین کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنادیا جائے اور ہمہ جہت ترقی کے لئے تعلیمی استحکام شرط ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    یوں تو تعلیمِ نسواں کے حوالے سے بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں۔ تحریکیں چلائی جاتی ہیں دعوے کیے جاتے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہمارے معاشرے ہمارے ملک نے وہ ہدف حاصل کرلیا ہے جس کے خواب ہمارے اکابرین اور آزادی کے مجاہدین نے دیکھے تھے ، کیا ہم واقعی ایسی تعلیمی فضا قائم کر پائے ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہہ سکیں کہ اب تعلیمی اعتبار سے ہمارے ملک کی خواتین بھی کسی ملک سے پیچھے نہیں۔ یہ سوالات اہم ہیں اور اس کے اطمینان بخش جواب بہت کم لوگوں کے پاس ہیں۔ اس حوالے سے بیشتر دعوے اور اعداد و شمار ہمیں کمزور اور کھوکھلے نظر آتے ہیں تاہم مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں اگر ہم بات اقلیتی طبقے کی لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کریں تو منظر نامہ خاصہ مختلف اور افسوس ناک نظر آتا ہے مگر تعلیمی میدانوں میں کام کرنے والے سماجی کارکن، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ منظر نامہ بہتری کے لئے تبدیل ہورہا ہے اگر اس باب میں سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو حالات صرف اطمینان بخش ہی نہیں بلکہ بہتر اور بہت بہتر ہوسکتے ہیں۔

    انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کہتے ہیں کہ لڑکیوں کی نشو و نما اور پرورش بھی اتنی ہی سنجیدگی اور دیانت و متانت سے کی جانی چاہئے جتنی توجہ لوگ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ اور خصوصی توجہ دینے کی اس لئے بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک خاتون پر پورے گھر اور پوری نسل کو تربیت دینے کی ذمہداری ہوتی ہے ایک ماں اپنے بچوں کو اگر بہتر تربیت دیتی ہے تو بہتر معاشرہ تشکیل پاتا ہے لہٰذالڑکیوں کی تعلیم کو فوقیت دی جانی چاہیے اور ان کو تمام تر تعلیمی حقوق فراہم کئے جانے چاہئیں، یہاں یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ پروفیسر سید وسیم اختر نے صرف زبانی طور پر لڑکیوں کی تعلیمی بہبود کی حمایت نہیں کی ہے بلکہ عملی طور پر بھی ابتدائی درجات سے اعلیٰ تعلیم کی فراہمی تک ایک ایسا نظم قائم کیا ہے جس کی بنیاد پر ان کے قول عمل میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔

    انٹرنیشنل اسکول سے انٹیگرل یونیورسٹی کے قیام تک ہر شعبے اور ہر ادارے میں خواتین کو بہتر اور مساوی موقعے فراہم کئے گئے ہیں ، انٹیگرل یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والی خواتین بھی یہ اعتراف کرتی ہیں کہ یونیورسٹی کے بانی وچانسلر نے اپنی زندگی کو ہی تعلیم۔ کے لئے وقف کردیا ہے پروفیسر صبا صدیقی اور پروفیسر الوینا فاروقی کہتی ہیں کہ اگر اقلیتی طبقے کے ذمہدار ، صاحب ثروت اور با شعور لوگ تعلیمی باب میں ایسی ہی کوششیں کریں جیسی ہمارے عہد کے سرسید یعنی انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر نے کی ہیں تو ہر لڑکی تعلیمی زیور سے آراستہ ہوجائے گی۔ اس کا مستقبل روشن ہوجائے گا اور وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکے گی۔

    نوئیڈا فلم سٹی میں پولیس اور بدمعاشوں کے بیچ تصادم، گولی لگنے سے  زخمی ایک بدمعاش گرفتار

    Flipkart کا ڈلیوری بوائے 4لاکھ کے 61 گیزیٹس لیکر ہوا فرار، ڈھونڈ رہی بنگلورو پولیس

    ڈاکٹر سمیتا چترویدئ کہتی ہیں کہ چانسلر، اور پروچانسلر کی ایجوکیشنل اپروچ موجودہ عہد کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ہے ، یہاں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی حصول تعلیم کے میدان میں مکمل آزادی ہے اور اہم بات یہ ئے کہ یہ آزادی سنسکاروں اور آدرشوں کے ساتھ دی جاتی ہے ، اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا تعلیم عورتوں ک ضروری تو ہے مگر۔ خاتونِ خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں ۔۔ یہ شعر قدیم زمانے اور اس کے پسمنظر میں اہم بھی تھا اور قابل تقلید بھی لیکن جدید دور میں اس کے معنی تبدیل ہوگئے ہیں آج دنیا کے ہر میدان ہر شعبے میں لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں سپنے آپ کو ثابت کرکے اپنی جگہ متعین کررہی ہیں سلجھے ہوئے ذہنوں کا یہی ماننا ہے کہ اپنی تہذیبی اقدار، سنسکار اور روشن روایتوں کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا کوئی گناہ نہیں بلکہ ایک بہترین عمل ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: