ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوگی حکومت نے دینی مدارس کو آن لائن تعلیم شروع کرنے کا دیا حکم ، مگر یہ ہے سب سے بڑی پریشانی

امداد یافتہ دینی مدارس کی نمائندہ تنظیم ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ کے جنرل سکریٹری اعظم حامد کا کہنا ہے کہ دینی مدارس میں آن لائن تعلیم شروع کرنے سے پہلے حکومت کو مدارس کے اساتذہ کو ٹریننگ دینی چاہئے ۔

  • Share this:
یوگی حکومت نے دینی مدارس کو آن لائن تعلیم شروع کرنے کا دیا حکم ، مگر یہ ہے سب سے بڑی پریشانی
یوگی حکومت نے دینی مدارس کو آن لائن تعلیم شروع کرنے کا دیا حکم ، مگر یہ ہے سب سے بڑی پریشانی

الہ آباد : یوپی حکومت نے ریاست کے پانچ سو سے بھی زیادہ امداد یافتہ  دینی مدارس میں آن لائن تعلیم شروع کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ لاک ڈاون میں نرمی کے با وجود ریاست کے بیشتر دینی مدارس میں تعلیم کا سلسلہ ابھی تک شروع نہیں کیا جا سکا ہے ۔ دینی مدارس میں پڑھنے والے طلبہ بھی ابھی تک اپنے گھروں سے واپس نہیں لوٹے ہیں ۔ یوپی مدرسہ بورڈ نے اپنے زیر نگرانی چلنے والے دینی مدارس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے یہاں آن لائن کلاسیز کی شروعات کریں ۔ آن لائن کلاسیز شروع کرنے کے سرکاری حکم سے دینی مدارس نئی مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں ۔


دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں بیشتر کا تعلق بنگال اور بہار کے پسماندہ اور غربت زدہ علاقوں سے ہے ۔ مدارس میں جو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، وہ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں سے آتے ہیں ۔ لاک ڈاون کی وجہ سے مدارس کے طلبہ اپنے گھروں کو پہلے ہی جا چکے ہیں ۔ ان طلبہ میں زیادہ تر کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہیں ۔ ان میں بھی بیشتر طلبہ ان علاقوں میں رہتے ہیں ، جہاں نیٹ ورک کا ملنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔


یوپی مدرسہ بورڈ نے تو گزشتہ گیارہ مئی کو ہی دینی مدارس کو آن لائن کلاسیز شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی تھی ۔ لیکن دینی مدارس نے رمضان کا عذر پیش کرکے کسی طرح اس معاملے کو موخر کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اب یوپی مدرسہ بورڈ نے ریاست کے تمام دینی مدارس کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے اداروں میں آن لائن کلاسیز کی شروعات لازمی طور سے کریں ۔ ریاست کے بعض دینی مدارس نے آن لائن کلاسیز کی شروعات کر بھی دی ہے ، لیکن طلبہ تک رسائی بنا پانا اور ان کو گروپ سے جوڑنا اساتذہ کے لئے ایک ٹیڑھی کھیر ثابت ہو رہا ہے ۔


الہ آباد کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ امامیہ انوار العلوم کے ترجمان جاوید رضوی کراری کا کہنا ہے کہ امداد یافتہ دینی مدارس اپنے بچوں کو آن لائن تعلیم دینا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس کے لئے یو پی مدرسہ بورڈ کو جس طرح سے تیاری کرنی چاہئے تھی ، وہ ابھی تک نہیں ہو پائی ہے ۔ جاوید رضوی کا کہنا ہے کہ دینی مدارس میں پڑھنے والے غریب بچوں کے پاس اسمارٹ فون ہی نہیں ہیں ، ایسے میں ان کو آن لائن تعلیم کسیے دی جا سکتی ہے ؟ جاوید رضوی یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے دینی مدارس پر آن لائن تعلیم کا دباو تو بنا یا جا رہا ہے ، لیکن اس کے مطابق اساتذہ کو سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں ۔

امداد یافتہ دینی مدارس کی نمائندہ تنظیم ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ کے جنرل سکریٹری اعظم حامد کا کہنا ہے کہ دینی مدارس میں آن لائن تعلیم شروع کرنے سے پہلے حکومت کو مدارس کے اساتذہ کو ٹریننگ دینی چاہئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دینی مدارس کے بیشتراساتذہ آن لائن تعلیم کی تکنیکی باتوں سے ابھی بھی ناواقف ہیں ۔ اعظم حامد کا کہنا ہے کہ دینی مدارس میں چلنے والے تعلیمی نصاب کو آن لائن پڑھانا عملی طور سے کامیاب نہیں ہوگا ۔
First published: Jun 09, 2020 07:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading