உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نماز جمعہ کو لیکر گیانواپی احاطے میں زبردست بھیڑ، نمازیوں سے بھری پوری مسجد

    Youtube Video

    Gyanvapi Masjid: پولیس نے نمازیوں کو میداگین چوراہے سے واپس کر دیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ آپ نماز اپنے گھر کے قریب یا محلے کی مسجد میں پڑھیں۔ اس سے پہلے جمعرات کو مسجد انتظامیہ نے کم از کم لوگوں سے احاطے میں آنے کی اپیل کی تھی لیکن جمعہ کی نماز کے لیے بھیڑ اچانک بڑھ گئی ہے۔

    • Share this:
      Gyanvapi Masjid: وارانسی کی گیانواپی مسجد میں نماز جمعہ کے لیے بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں۔ پولس مسلسل بڑھتی ہوئی بھیڑ کو گیانواپی احاطے سے واپس لوٹا رہی ہے۔ پولیس نے نمازیوں کو میداگین چوراہے سے واپس کر دیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ آپ نماز اپنے گھر کے قریب یا محلے کی مسجد میں پڑھیں۔ اس سے پہلے جمعرات کو مسجد انتظامیہ نے کم از کم لوگوں سے احاطے میں آنے کی اپیل کی تھی لیکن جمعہ کی نماز کے لیے بھیڑ اچانک بڑھ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سکیورٹی کے لیے بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

      وہیں اس سے پہلے ڈی ایم کوشل راج شرما نے مسجد کمیٹی اور مسلم مذہبی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ جس میں امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ مسجد میں وضو کے پانی کے دو ڈرم رکھنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ وضو میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ ڈی ایم کی جانب سے مسجد کمیٹی کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سیل بند احاطے میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے اور نہ ہی احاطے کو سیل کرنے کے لیے لگائے گئے نو تالوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ نماز جمعہ کے دوران کسی قسم کی اشتعال انگیز بیان بازی نہیں ہونے چاہیے۔

      Gyanvapiمیں شیولنگ کےدعوےکے بیچ SCمیں آج سماعت، ہندوفریق کا جواب، پوری املاک بھگوان کی ہے

       



      ڈی ایم کوشل راج شرما نے کہا کہ مسجد کمیٹی کو وضو کے لیے 1-1 ہزار لیٹر پانی کے دو ڈرم رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جس میں نماز پڑھنے کے لیے آنے والے لوگ وضو کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وہاں مزید فورسز کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ بتا دیں کہ وارانسی کے گیان واپی کیس میں 6 اور 7 مئی کو ہونے والی کارروائی کی رپورٹ سول کورٹ کو سونپ دی گئی ہے۔ یہ تفصیل 18 مئی کو سروے کے لیے مقرر کیے گئے کورٹ کمشنر اجے کمار مشرا نے عدالت کے سامنے پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ 14 سے 16 مئی کے درمیان کیے گئے سروے کی رپورٹ بھی سول جج کی عدالت میں پیش کردی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد عدالت 23 مئی کو اس معاملے کی سماعت کرے گی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: