ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دیوپریاگ میں بادل پھٹنے سے بھاری نقصان ، پانی کے سیلاب میں کئی بھون زمین دوز

Devprayag Cloudburst: ٹہری ایس ایچ او نے واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک بارہ تیرہ دکانیں تباہ ہوچکی ہیں ۔ ہم نے لوگوں کو الرٹ کردیا ہے ۔ ریسکیو کا کام تیزی سے چل رہا ہے ۔

  • Share this:
دیوپریاگ میں بادل پھٹنے سے بھاری نقصان ، پانی کے سیلاب میں کئی بھون زمین دوز
دیوپریاگ میں بادل پھٹنے سے بھاری نقصان ، پانی کے سیلاب میں کئی بھون زمین دوز

دیوپریاگ : اتراکھنڈ کے دیوپریاگ میں منگل کو بادل پھٹنے سے آئے سیلاب میں کئی بھون زمین دوز ہوگئے ۔ نگرپالیکا بھون اور آئی ٹی آئی بھون زمین دوز ہوگئے ہیں ۔ پانی کے ساتھ آئے ملبے میں آٹھ دکانیں بھی ڈوب گئی ہیں ۔ حالانکہ کورونا کرفیو کی وجہ سے جانی نقصان ہونے سے بچ گیا ۔ ملبے کی وجہ سے بھاگیرتھی ندی کی سطح آب بڑھ گئی ہے ۔ ٹہری ایس ایچ او نے واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک بارہ تیرہ دکانیں تباہ ہوچکی ہیں ۔ ہم نے لوگوں کو الرٹ کردیا ہے ۔ ریسکیو کا کام تیزی سے چل رہا ہے ۔


بادل پھٹنے سے شانتا ندی میں آئی طغیانی سے شانتی بازار میں تباہی مچ گئی ۔ آئی ٹی آئی کی تین منزلہ عمارت پوری طرح سے منہدم ہوگئی جبکہ شانتا ندی سے متصل دس سے زیادہ دکانیں بھی سیلاب میں بہہ گئیں ۔ دیوپریاگ نگر سے بس اڈے کی جانب آنے والا راستہ اور پل پوری طرح سے بہہ گیا ۔ ملبے میں کسی کے دبنے کو لے کر ابھی تک کوئی بات واضح نہیں ہوسکی ہے ۔ کورونا کرفیو کی وجہ سے آئی ٹی آئی سمیت دکانوں کے بند رہنے سے بھاری جانی و مالی نقصان ہونے سے بچ گیا ۔


منگل کو شام تقریبا چار بجے دشرتھ پہاڑ پر بادل پھٹنے سے یہاں سے نکلنے والی شانتا ندی میں سیلاب آگیا ۔ بس اڈہ سے شانتی بازار ہوکر شانتا ندی بھاگیرتھ سے ملتی ہے ۔ سیلاب کی وجہ سے آئی ملبے نے شانتی بازار میں تباہی مچا دی ۔ آئی ٹی آئی کی تین منزلہ عمارت زمین دوز ہوگئی ۔ جائے واقعہ پر موجود سیکورٹی اہلکار دیوان سنگھ نے کود کر اپنی جان بچائی ۔ آئی ٹی آئی بھون میں موجود کمپیوٹر سینٹر ، پرائیویٹ بینک ، بجلی ، فوٹو وغیرہ کی دکانیں بھی منہدم ہوگئیں ۔


ادھر شانتا ندی پر بنا پل ، راستہ سمیت اس سے متصل زیورات ، کپڑے اور مٹھائی وغیرہ کی دکانیں بھی سیلاب کی نظر ہوگئیں ۔ شانتی بازار میں کروڑوں کا نقصان ہونے کا ابتدائی اندازہ ہے ۔ پولیس کو ابھی تک کسی کے مرنے کی اطلاع نہیں ہے ۔ اگر کورونا کرفیو نہیں ہوتا تو کافی زیادہ جانی نقصان ہوسکتا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 11, 2021 07:56 PM IST