உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttarakhand Election-2022: سیاسی قیاس آرائیوں کےدرمیان کوارنٹین ہوئے کشور اُپادھیائے، کانگریس کی لسٹ پر ہے سابق صدر کی نظر

    اُتراکھنڈ کانگریس کے سابق صدر کشور اُپادھیائے اور سابق وزیراعلیٰ ہریش راوت۔

    اُتراکھنڈ کانگریس کے سابق صدر کشور اُپادھیائے اور سابق وزیراعلیٰ ہریش راوت۔

    بتایا جارہا ہے کہ کشور اپادھیائے سیاسی طور پر کورنٹین ہیں اور وہ میڈیا سے بھی بات نہیں کررہے ہیں۔ اُن کی نظر کل اسمبلی الیکشن کے لئے فائنل ہونے والی لسٹ پر لگی ہے۔ جس کے بعد وہ سیاسی فیصلے لیں گے۔

    • Share this:
      ہریدوار: اُتراکھنڈ اسمبلی الیکشن (Uttarakhand Election-2022) سے پہلے کانگریس کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ کیونکہ ریاستی کانگریس کے صر کشور اُپادھیائے (Kishor Upadhyay)پارٹی کے لئے مصیبت بن گئے ہیں۔ وہیں کانگریس اعلیٰ کمان کی ہدایت ملنے کے بعد اُپادھیائے نے خود کو کورنٹین کرلیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کشور کی نظر اسمبلی الیکشن کے لئے امیدواروں کے ناموں کے لئے لئے جاری کی جانے والی لسٹ پر لگی ہے اور وہ اس کے بعد ہی اپنے پتے کھولیں گے۔ بتایا جارہا ہے کہ کشور کے بیان کے بعد اعلیٰ کمان ناراض ہے اور اسمبلی الیکشن میں ٹیہری سیٹ کو لے کر اُن کی دعویداری پر قینچی چل سکتی ہے۔

      ریاست میں بحث جاری ہے کہ جلد ہی کشور اُپادھیائے بڑا سیاسی قدم اٹھاسکتے ہیں اور موجودہ حالات میں اُپادھیائے کی نظر کانگریس کی امیدواروں کی لسٹ پر ہے۔ وہ ٹیہری سیٹ سے دعویدار ہیں اور مانا جارہا ہے کہ اُن کی دعویداری پر قینچی چل سکتی ہے۔ اصل میں پچھلے دنوں ہی انہوں نے اپنی ہار کے لئے سابق سی ایم ہریش راوت کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور انہوں نے بی جے پی لیڈروں کے ساتھ میٹنگ بھی کی تھی۔ جس کے بعد بتایا جارہا ہے کہ اعلیٰ کمان اُپادھیائے سے ناراض ہے۔ وہیں پچھلے دنوں ریاستی انچارج دیویندر یادو کے حکم کے بعد کشور نے خود کو سیاسی طور سے کورنٹین کرلیا ہے اور چرچا ہے کہ ہفتہ کے بعد ہی وہ اپنے ارادے ظاہر کریں گے۔

      میڈیا سے دور منصوبہ تیار کررہے ہیں اُپادھیائے
      بتایا جارہا ہے کہ کشور اپادھیائے سیاسی طور پر کورنٹین ہیں اور وہ میڈیا سے بھی بات نہیں کررہے ہیں۔ اُن کی نظر کل اسمبلی الیکشن کے لئے فائنل ہونے والی لسٹ پر لگی ہے۔ جس کے بعد وہ سیاسی فیصلے لیں گے۔

      بی جے پی میں جانے کا امکان!
      کشور اُپادھیائے کے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی میں جانے کی قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔ پچھلے دنوں ہی اُن کی بی جے پی کے بڑے لیڈروں کے ساتھ میٹنگیں بھی ہوئی تھیں۔ وہیں راجیہ سبھا رکن اور بی جےپی کے میڈیا انچارج انیل بلونی سے بھی وہ ملاقات کرچکے ہیں لیکن اُپادھیائے ابھی تک بی جےپی میں شامل ہونے کو لے کر کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: