ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پولیس کے ذریعہ معذور سمیت تین مسلم نوجوانوں کے فرضی مڈبھیڑ گرفتاری سے مسلمانوں میں اشتعال

  • UNI
  • Last Updated: Aug 04, 2018 01:06 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پولیس کے ذریعہ معذور سمیت تین مسلم نوجوانوں کے فرضی مڈبھیڑ گرفتاری سے مسلمانوں میں اشتعال
یو پی پولیس فائل تصویر

پرتاپ گڑھ : آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین نے اتر پردیش میں پرتاپگڑھ ضلع کے تھانہ کندھئی پولیس کے ذریعہ گزشتہ بدھ کی شام بے قصور معذور سمیت تین مسلم نوجوانوں کی فرضی مڈبھیڑ میں گرفتار کرکے جیل بھیجنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ضلع مجیسٹریٹ و پولیس سپرنٹنڈنٹ کو میمورنڈم دے کر بے قصور نوجوانوں کے ساتھ انصاف کرنے و پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ مذکورہ گرفتاری سے مسلمانوں میں مزید اشتعال ہے ۔


پولیس سپرنٹنڈنٹ دیو رنجن ورما نے معذور سمیت تین مسلم نوجوانوں کے فرضی مڈبھیڑ و گرفتاری کے متعلقہ دریافت کرنے پر کہا کہ شکایت موصول ہوئی ہے ۔ مزید تحقیقات کرائیں گے ۔معاملہ فرضی ثابت ہونے پر ملزمان کو انصاف ملے گا اور گرفتار کرنے والی پولیس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔



آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے ضلع صدر اسرار احمد کی قیادت ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ و پولیس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کرکے دیئے گئے میمورنڈم میں الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ کندھئی پولیس نے گزشتہ یکم/ اگست کی شام تقریباً سات بجے محمد عارف ۔اقرار احمد و محمد شریف کو گنئ ڈیہ چوراہا عیدگاہ کے پاس واقع چائے کی دوکان پر چائے پیتے وقت بغیر کسی جرم کے حراست میں لے کر 2/ اگست کو فرضی پولیس مڈبھیڑ دکھا کر جرائم نمبر 18/272 دفعہ 307 تعزرات ہند کے تحت مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیا ۔جبکہ محمد عارف معذور ہے اس کا کوئی جرائم کا ریکارڈ نہیں ہے ۔تینوں نوجوان بالکل بے قصور ہیں ۔

پولیس تعصب کی بنیاد پر ان مسلم نوجوانوں کو پھنسایا ہے ۔ وفد نے مطالبہ کیا ہے کہ بے قصوروں کو انصاف دلایا جائے و گرفتار کرنے والی پولیس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ وفد نے کہا کہ اگر انصاف نہیں کیا جاتا تو انکی تنظیم سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کیلئے مجبور ہو گی ۔وفد میں ظفرالحسن ایڈوکیٹ ۔شجاعت اللہ ایڈوکیٹ ۔نثار احمد ۔سلیم ۔امام ۔ انیس وغیرہ لوگ شامل ہیں۔
First published: Aug 04, 2018 01:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading