உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتراکھنڈ میں صدر راج منسوخ کرنے والے جج کا مودی حکومت نے کیا تبادلہ

    نئی دہلی۔ اتراکھنڈ میں صدر راج منسوخ کرنے کا تاریخی فیصلہ دینے والے نینی تال ہائی کورٹ کے چیف جسٹس كے ایم جوزف کا آندھرا پردیش تبادلہ ہو گیا ہے۔

    نئی دہلی۔ اتراکھنڈ میں صدر راج منسوخ کرنے کا تاریخی فیصلہ دینے والے نینی تال ہائی کورٹ کے چیف جسٹس كے ایم جوزف کا آندھرا پردیش تبادلہ ہو گیا ہے۔

    نئی دہلی۔ اتراکھنڈ میں صدر راج منسوخ کرنے کا تاریخی فیصلہ دینے والے نینی تال ہائی کورٹ کے چیف جسٹس كے ایم جوزف کا آندھرا پردیش تبادلہ ہو گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ اتراکھنڈ میں صدر راج منسوخ کرنے کا تاریخی فیصلہ دینے والے نینی تال ہائی کورٹ کے چیف جسٹس كے ایم جوزف کا آندھرا پردیش تبادلہ ہو گیا ہے۔ جوزف حیدرآباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس بی بھونسلے کی جگہ لیں گے جنہیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا ہے۔ تاہم وزارت قانون کے ذرائع نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

      جسٹس جوزف نے جولائی 2014 میں نینی تال ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا اور اتراکھنڈ میں صدر راج کو لے کر ان کا حالیہ فیصلہ خاصا شہ سرخیوں میں رہا۔ ان کے اس فیصلے سے ہریش راوت کے پھر سے وزیر اعلی بننے کا راستہ یقینی ہو گیا تھا۔ فیصلے میں کہا تھا کہ مرکز کی طرف سے ریاست میں دفعہ 356 کا استعمال سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر قوانین کے خلاف ہے۔

      یہی نہیں اپنے فیصلے میں جج جوزف نے مرکزی حکومت کو سخت پھٹکار لگائی تھی۔ جوزف نے صاف کہا تھا کہ صدر بھی کوئی بادشاہ نہیں ہے۔ صدر ہی نہیں جج بھی غلطی کر سکتے ہیں اور ان کے فیصلوں کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
      First published: