உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتراکھنڈ: ووٹنگ شروع، کانگریس اور بی جے پی کے ایک ایک ممبر اسمبلی ہوئے باغی، بی ایس پی کی کانگریس کو حمایت

    نئی دہلی۔ آج اتراکھنڈ میں ہریش راوت کے لئے امتحان کی گھڑی ہے۔

    نئی دہلی۔ آج اتراکھنڈ میں ہریش راوت کے لئے امتحان کی گھڑی ہے۔

    نئی دہلی۔ آج اتراکھنڈ میں ہریش راوت کے لئے امتحان کی گھڑی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ آج اتراکھنڈ میں ہریش راوت کے لئے امتحان کی گھڑی ہے۔ راوت کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنا ہے۔ راوت اسمبلی پہنچ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس اور بی جے پی ممبران اسمبلی بھی اسمبلی میں ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کے ایک ایک رکن اسمبلی باغی ہو گئے ہیں۔ ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔

      آج  پورے دہرادون میں دفعہ 144 لگا دی گئی ہے۔ آج طاقت آزمائی کے چلتے اسمبلی احاطے میں ممبران اسمبلی اور اسمبلی ملازمین کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہو سکے گا۔ یہ لوگ بھی اسمبلی احاطے میں نہ صرف پیدل جائیں گے بلکہ انہیں بھی موبائل تک لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

      اتراکھنڈ میں آج 11 بجے سے 1 بجے تک کے لئے صدر راج ہٹا دیا گیا ہے۔ اس دوران اسمبلی کے اندر ووٹوں کی گنتی ہورہی ہے اور اسے سیل بند لفافے میں بدھ کی صبح سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ بدھ کی صبح 10.30 بجے سپریم کورٹ اس کے بعد فیصلہ کرے گا۔

      اتراکھنڈ میں کانگریس کے 27 اور بی جے پی کے 28 ممبران اسمبلی ہیں۔ نو باغی ممبران اسمبلی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ وہ ایوان سے نکالے جا چکے ہیں۔ کانگریس کے پاس 6 دیگر ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اس لئے وہ حکومت بنانے کے قابل نظر آ رہی ہے۔

      تاہم 6 میں سے بی ایس پی کے 2 ممبران اسمبلی نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان بی ایس پی صدر مایاوتی نے کیا ہے۔ اسمبلی میں آج ہونے والی طاقت آزمائی میں کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اس مسئلے پر سپریم کورٹ میں ان کی اپیل پر اب 12 جولائی کو سماعت ہوگی۔ اس سے پہلے نینی تال ہائی کورٹ نے باغی ممبران اسمبلی کی عرضی مسترد کر دی تھی۔
      First published: