உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتراکھنڈ تناز‏عہ: باغی اراکین اسمبلی پر ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ، تحریک اعتماد میں ان کے ووٹ پرشبہ برقرار

    د ہرادون۔  اتراکھنڈ میں کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر نینی تال ہائی کورٹ نے آج دونوں فریقوں کی سماعت مکمل کرکے اپنا فیصلہ 9 مئی تک کے لئے محفوظ رکھ لیا۔

    د ہرادون۔ اتراکھنڈ میں کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر نینی تال ہائی کورٹ نے آج دونوں فریقوں کی سماعت مکمل کرکے اپنا فیصلہ 9 مئی تک کے لئے محفوظ رکھ لیا۔

    د ہرادون۔ اتراکھنڈ میں کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر نینی تال ہائی کورٹ نے آج دونوں فریقوں کی سماعت مکمل کرکے اپنا فیصلہ 9 مئی تک کے لئے محفوظ رکھ لیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      د ہرادون۔  اتراکھنڈ میں کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر نینی تال ہائی کورٹ نے آج دونوں فریقوں کی سماعت مکمل کرکے اپنا فیصلہ 9 مئی تک کے لئے محفوظ رکھ لیا۔ جسٹس یو سی دھياني نے درخواست گزاروں اور مدعا علیہان کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ 9 مئی تک کے لئے محفوظ کر لیا۔ ریاستی اسمبلی میں 18 مئی کو مالی تصرفات بل منظور ہونے کے دوران 9 اراکین اسمبلی کی طرف سے اپنی ہی حکومت کو گرانے اور وزیر اعلی کو ہٹانے کے لئے بی جے پی سے ہاتھ ملانے پر کانگریس کی کوآرڈنیٹر ڈاکٹر اندرا ہدویش نے ان کی رکنیت ختم کرنے کے لئے اسمبلی اسپیکر گووند سنگھ كنجوال کو عرضی دی تھی۔ اسمبلی اسپیکر نے معاملے کی سماعت کے بعد باغی ممبران کو نااہل قرار دے دیا تھا۔


      دریں اثناء، ریاست میں صدر راج نافذ ہونے پر سبکدوش ہونے والے وزیر اعلی ہریش راوت کو سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسمبلی میں 10 مئی کو اکثریت ثابت کرنے کو کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے باغی ممبران اسمبلی کو طاقت آزمائی (فلور ٹیسٹ)میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی ہے۔ فی الحال تمام 9 ممبران اسمبلی معطل چل رہے ہیں۔ انہیں ہائی کورٹ نے ابھی کوئی راحت نہیں دی۔ کورٹ نے اسپیکر کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ جبکہ باغی ممبران اسمبلی کا کہنا تھا کہ اسمبلی اسپیکر نے تعصب سے فیصلہ کیا ہے اور سب کے موقف سنے بغیر یکطرفہ فیصلہ سنایا ہے جبکہ مسٹر كنجيوال کا کہنا تھا کہ باغی ممبران اسمبلی کے خلاف کافی ثبوت ہیں اور اس کی وجہ سے ہی انہیں نااہل قرار دیا گیا ہے۔
      ۔

      First published: