ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Manish Sisodia:لاک ڈاؤن نہیں،تمام بالغ شہریوں کے لئے ویکسی نیشن ہی واحدحل

دہلی کے وزیرتعلیم منیش سسوڈیا (Manish Sisodia) نے کہا کہ ’کووڈ۔19 انفیکشن کی اس دوسری لہر کے درمیان طلبہ کا کیریئر اور زندگی خطرے میں ہیں۔ لہذا ہمیں انتخاب کرنا ہوگا کہ ہمیں کس کو ترجیح دینا چاہئے‘۔

  • Share this:
Manish Sisodia:لاک ڈاؤن نہیں،تمام بالغ شہریوں کے لئے ویکسی نیشن ہی واحدحل
ویکسی نیشن پروگرام کی فائل فوٹو

دہلی کے وزیرتعلیم منیش سسوڈیا (Manish Sisodia) نے سی این این نیوز18کو بتایا کہ ’ہندوستان میں کورونا کی ویکسین حاصل کرنے کی عمر کو کم کرکے 18 برس کردی جانی چاہئے کیونکہ اس وقت کورونا وائرس کی منتقلی کا سلسلہ توڑنے کا یہی واحد حل ہے جو تیزی سے پھیل رہا ہے‘۔ماریہ شکیل (Marya Shakil) سے بات کرتے ہوئے سسوڈیا نے مرکز اور سی بی ایس ای پر زور دیا کہ ’وہ اس طرح کے غیر معمولی حالات کے لئے نئے انداز میں سوچیں۔ کیونکہ کورونا وائرس کی نئی شکل نوجوانوں کو زیادہ متاثر کررہی ہے‘۔


دہلی کے وزیرتعلیم منیش سسوڈیا (Manish Sisodia) نے کہا کہ ’کووڈ۔19 انفیکشن کی اس دوسری لہر کے درمیان طلبہ کا کیریئر اور زندگی خطرے میں ہیں۔ لہذا ہمیں انتخاب کرنا ہوگا کہ ہمیں کس کو ترجیح دینا چاہئے‘۔


’’ہر قسم کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود دہلی کے ہر اسکول میں کم از کم 10 سے 15 کیس سامنے آرہے ہیں، لہذا اپنے بچوں کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں بغیر امتحان کے سی بی ایس ای کے دوسرے طریقوں پر بھی غور کرنا چاہئے۔ ہم روایتی سوچ سے ہٹ کر کیوں نہیں سوچ سکتے ہیں؟ اگر کلاسز آن لائن کرائے جاسکتے ہیں تو پھر امتحان کیوں نہیں ہوسکتے‘‘۔


انطوں نے کہا کہ ’’کوئی نہیں جانتا کہ ہمارے لئے وائرس کب اور کس طرح نقصان دا ہے۔ اسکول دوبارہ پراکٹیکل امتحانات دینے کے لئے کھولے گئے، جس کے نتیجے میں اسکولوں سے کووڈ۔19 کے متعدد کیس رپورٹ ہوئے۔ لہذا اس کے بعد بھی اگر ہم امتحانات کو آف لائن کرانے کا فیصلہ نہیں کرتے ہیں تو ہم بچوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں‘‘۔
سسودیا نے زور دے کر کہا کہ وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے بحران سے نمٹنے کے لئے مرکز کو پہلے اس مسئلے کو تسلیم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’’ریاستیں اپنے تجربات شیئر کرنا کے لئے تیار ہیں۔ لیکن آخر کار سی بی ایس ای کو فون کرنا پڑے گا۔ کئی طرح کے طریقے ہوسکتے ہیں۔ در حقیقت میں کسی بھی طرح سال کے آخر میں 3 گھنٹے کے امتحان پر مبنی طالب علم کی صلاحیت کو جانچنے کے نظام کی تائید نہیں کرتا ہوں۔ یہ کسی بچے کے ساتھ ناانصافی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’غیر معمولی حالات، غیرمعمولی فیصلے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلے ہم یہ قبول کریں کہ یہ ایک مسئلہ ہے۔ اگر ہم اس مسئلے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ یہ صرف تکبر ہے۔ ہمیں اس سے آگے سوچنا چاہئے‘‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 14, 2021 01:40 PM IST