உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اکتوبر کے پہلے ہفتہ سے 12 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو دی جائے گی کورونا ویکسین، یہ ہے پور پلان

    اکتوبر کے پہلے ہفتہ سے 12 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو دی جائے گی کورونا ویکسین، یہ ہے پور پلان ۔ علامتی تصویر ۔ News18 English

    اکتوبر کے پہلے ہفتہ سے 12 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو دی جائے گی کورونا ویکسین، یہ ہے پور پلان ۔ علامتی تصویر ۔ News18 English

    بارہ سال سے زیادہ عمر کے صرف انہی بچوں کو ویکسین پہلے دی جائے گی جو سنگین بیماری میں مبتلا ہیں اور جو بچے صحت مند ہیں ، انہیں ویکسینیشن کیلئے اگلے سال مارچ تک انتظار کرنا ہوگا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : کورونا کی تیسری لہر کے خدشہ کے پیش نظر ہندوستان میں 12 سال اور اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو کورونا کا ٹیکہ اس سال اکتوبر کے پہلے ہفتہ سے دینے کا منصوبہ ہے ۔ ملک میں بارہ سال سے سترہ سال کی عمر کے تقریبا بارہ کروڑ بچے ہیں ، لیکن سب سے پہلے ان بچوں کو ویکسین دی جائے گی جو کسی سنگین بیماری میں متبلا رہے ہیں ۔ بارہ سال اور اس سے زیادہ کی عمر کے بچوں کی ویکسینیشن کیلئے ڈی سی جی آئی کی طرف سے اجازت مل گئی ہے ۔ جائیڈس کیڈیلا کی ویکسین جائیکوو۔ ڈی کو اس سال اکتوبر کے پہلے ہفتے سے بچوں کو دینے کا منصوبہ ہے ۔

      مرکزی حکومت کی کووڈ ورکنگ گروپ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر این کے ارورہ کے مطابق کمپنی نے کہا ہے کہ جائیکوو ڈی اکتوبر کے پہلے ہفتہ سے ویکسینیشن پروگرام میں شامل ہوجائے گی ۔ یعنی اب ایک امید پیدا ہوئی ہے کہ 18 سال سے زیادہ کے لوگوں کو ٹیکہ تو دیا ہی جارہا ہے اور جلد ہی بچوں کو بھی ٹیکہ کاری مہم میں شامل کرلیا جائے گا ۔

      حالانکہ بارہ سال سے زیادہ عمر کے صرف انہی بچوں کو ویکسین پہلے دی جائے گی جو سنگین بیماری میں مبتلا ہیں اور جو بچے صحت مند ہیں ، انہیں ویکسینیشن کیلئے اگلے سال مارچ تک انتظار کرنا ہوگا ۔ سنگین بیماری کے زمرہ میں کون کون سی بیماریاں شامل ہوں گی ، اس کیلئے جلد ہی نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آن امیونائزیشن کی میٹنگ ہوگی ، جس میں فہرست تیاری کی جائے گی ۔

      جانکاروں کا ماننا ہے کہ صحت مند بچوں میں کورونا انفیکشن ہونے پر اسپتال میں بھرتی ہونے یا پھر موت کا خطرہ کافی کم ہوتا ہے ۔ ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایک متاثر بالغ میں بچوں کے مقابلہ میں 10 سے 15 گنا زیادہ اسپتال میں بھرتی ہونے یا پھر موت کا خطرہ رہتا ہے ۔

      اسکول کھولنے کیلئے ٹیکہ کاری ضروری نہیں

      مرکزی سرکار کی کمیٹی کووڈ ورکنگ گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر این کے ارورہ کے مطابق اسکول کھولنے کیلئے بچوں کی ٹیکہ کاری کی ضرورت نہیں ہے ۔ ضرورت یہ ہے کہ جن گھروں میں بچے ہیں وہاں سبھی والدین اور گھر کے دیگر بالغ افراد کو ٹیکہ لگوا لینا چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ اسکولوں میں ٹیچر اور دیگر اسٹاف کا بھی ویکسینیشن ہوجانا چاہئے ۔ اس طریقہ سے بچہ ایک محفوظ ماحول میں رہتا ہے ۔ بچوں کے ذہنی اور جسمانی فروغ کیلئے ماہرین اسکول کھولنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: