உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Vaishno Devi Yatra: کشمیر میں وشنو دیوی یاترادوبارہ ہوگی شروع، شدیدبارش کےبعدانتظامات مکمل

    ’’موسم کی خرابی کے باعث یاترا کو 21 اگست کی صبح تک روک دیا گیا ہے۔‘‘

    ’’موسم کی خرابی کے باعث یاترا کو 21 اگست کی صبح تک روک دیا گیا ہے۔‘‘

    ہفتہ کی صبح یاترا کے بیس کیمپ کٹرا میں 1,500 سے زیادہ عقیدت مندوں کو پرانے ٹریک پر دوبارہ سفر شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن یاترا کے دوبارہ شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد مسلسل بارش کی وجہ سے شام کو اسے دوبارہ منسوخ کر دیا گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu Cantonment | Kolkata [Calcutta] | Rangapara | Mumbai | Aurangabad
    • Share this:
      جموں و کشمیر (Jammu and Kashmir) کے ضلع ریاسی میں تریکوٹہ پہاڑیوں پر ماتا ویشنو دیوی (Mata Vaishno Devi) کی یاترا کے ضمن میں ہفتے کے آخر میں مسلسل بارش کی وجہ سے کئی رکاوٹیں دیکھنے میں آئیں۔ خراب موسم کی وجہ سے ہفتہ کی شام کو معطل ہونے کے بعد یاترا آج دوبارہ ہوگی۔ ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ (Mata Vaishno Devi shrine board) کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’موسم کی خرابی کے باعث یاترا کو 21 اگست کی صبح تک روک دیا گیا ہے۔‘‘

      یہ اپ ڈیٹ جمعہ کو وشنو دیوی ٹریک پر سیلاب جیسی صورتحال کے درمیان آیا ہے جس کی وجہ سے جمعہ کی رات یاترا کو معطل کر دیا گیا تھا۔ ہفتہ کی صبح یاترا کے بیس کیمپ کٹرا میں 1,500 سے زیادہ عقیدت مندوں کو پرانے ٹریک پر دوبارہ سفر شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن یاترا کے دوبارہ شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد مسلسل بارش کی وجہ سے شام کو اسے دوبارہ منسوخ کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں اور طبی یونٹوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس رکھا گیا ہے۔

      ہمکوٹی یا بیٹری کار ٹریک جسے نیا ٹریک بھی کہا جاتا ہے، جو کلیئرنس آپریشن کی وجہ سے بند رہا۔ حکام کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر سروس بھی معطل رہی۔ عقیدت مندوں کے مطابق یاتریوں کی جانب سے پہاڑی سے پانی بہنے کے مناظر دیکھنے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا تاہم شرائن بورڈ انتظامیہ نے یقین دلایا کہ یاتریوں کی حفاظت کے لیے اوور ٹائم کام کیا جاتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:


      ماتا ویشنو دیوی یاترا ایک ماہ قبل سی آر پی ایف، فوج اور مقامی پولیس کی سخت حفاظت کے درمیان شروع ہوئی تھی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: