ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ویلنٹائن ڈے 2020: پیار اور سیکس کے بارے میں ہم لڑکیوں کو کیا سکھاتے ہیں؟

کیرتنا نے اپنی نئی زندگی کے طور طریقوں کے ساتھ تال میل بٹھانے کی پوری کوشش کی لیکن یہ مشکل تھا۔ گھر کی چہار دیواری میں سمٹ کر رہ جانا اسے پسند نہیں تھا۔

  • Share this:
ویلنٹائن ڈے 2020: پیار اور سیکس کے بارے میں ہم لڑکیوں کو کیا سکھاتے ہیں؟
کیرتنا نے اپنی نئی زندگی کے طور طریقوں کے ساتھ تال میل بٹھانے کی پوری کوشش کی لیکن یہ مشکل تھا۔ گھر کی چہار دیواری میں سمٹ کر رہ جانا اسے پسند نہیں تھا۔

جب کیرتنا (بدلا ہوا نام) کی شادی ہوئی تو پہلے اسے سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ وہ کیا امید کرے۔ وہ تمل ناڈو کے ایک چھوٹے سے شہر میں پلی بڑھی تھی جہاں لڑکوں سے بات تک کرنے کی ممانعت تھی۔ لڑکوں سے کبھی بات نہ کرنے سے لے کر آج وہ چوبیسوں گھنٹے اور سات دن ایک لڑکے کے ساتھ رہنے کی حالت میں ہے۔ ایک بچی کے طور پر کیرتنا نے صرف اپنے ماں۔ باپ کے رشتوں کو دیکھا تھا۔ ’ میرے ماں باپ ایک دوسرے سے بہت ہی کم باتیں کیا کرتے تھے۔ میری ماں گھر پر ہی رہتی تھیں اور کھانا پکایا کرتی تھیں۔ وہیں والد جی کام کرنے کے لئے باہر جایا کرتے تھے‘۔ کیرتنا کی ماں نے ایک وقت اسکول ٹیچر کی نوکری کرنی شروع کی تھی لیکن اس کے باپ کو ایک خاتون کے کام کرنے کا خیال صحیح نہیں لگا اور انہوں نے کیرتنا کی ماں کی وہ نوکری چھڑوا دی۔ اس لئے جب شادی کے بعد کیرتنا کے شوہر نے اسے باہر کام کرنے سے روکا تو اس نے اس بات کو قبول کر لیا۔


ہندوستان میں کئی نوعمر خواتین تعلقات کے بارے میں یا تو فلموں سے یا اپنے اہل خانہ کے رویوں کو دیکھ کر سیکھتی ہیں۔ کیونکہ ان کا لڑکوں سے بات کرنا ممنوع ہوتا ہے۔ اس لئے دوسری صنف کے بارے میں انہیں کچھ بھی پتہ نہیں ہوتا۔ اس لئے جب وہ کسی بھی طرح کے رشتے میں آتی ہیں تو وہ اس بات سے پوری طرح نابلد ہوتی ہیں کہ لڑکوں سے وہ کیا امید کر سکتی ہیں اور انہیں کیا امید کرنی چاہئے۔ کیرتنا کی بات کی جائے تو اس کے شوہر کا رویہ بالکل ٹھنڈا اور دوری بنائے رکھنے والا تھا۔ دوسری کئی ارینجڈ شادیوں کی طرح اس رشتے میں پیار نہیں تھا۔ حالانکہ پورے دن گھر پر رہنے اور کھانا پکانے سے کیرتنا تھک جاتی تھی لیکن اس نے کبھی بھی دیگر متبادل کی امید نہیں کی۔ ’ میں اپنے ماں۔ باپ کو اسی طرح دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی تھی۔ اس لئے جب میرے شوہر نے میرے تئیں کوئی پیار نہیں دکھایا اور یہ امید کی کہ میں گھر پر ہی رہوں تو مجھے لگا کہ یہ معمول کی بات ہے۔


کیونکہ زیادہ تر لوگ یہ نہیں جانتے کہ ایک تعلق سے کیا امید کی جائے۔ صنف ایک آسان سا راستہ کھول دیتی ہے۔ گھر کا مرد باہر کام کرتا ہے اور گھر کی خاتون گھر کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس سے اپنی خصوصیات اور لیاقت کو کھوج پانے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ آج جب کہ دنیا کافی حد تک بدل چکی ہے۔ ہمارے کئی بہترین شیف مرد ہیں اور کئی کمپنیوں کی سی ای او خواتین ہیں۔ اس لئے کیا خواتین کو ان کے صنفی رول سے باہر آ کر اپنے تعلقات سے کہیں زیادہ امید کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ نوجوان لڑکیوں کو اپنی شخصیت کو پوری طرح سے نکھارنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ وہ طویل وقت کے لئے کوئی تعلق بنائیں۔ اگر کوئی خاتون اپنی طاقت اور خیالات کو پوری طرح سے سمجھتی ہے تو وہ کسی ایسے تعلق کو پانے کی کوشش کر سکتی ہے جس سے اس کی شخصیت کے ہر پہلو کی ترقی میں اسے مدد ملے۔ لیکن ہندوستانی سماج میں یہ تھوڑا مشکل ہے جہاں کیرتنا جیسی زیادہ تر خواتین کی شادی کالج ختم ہونے کے فورا بعد کر دی جاتی ہے۔




کیرتنا نے اپنی نئی زندگی کے طور طریقوں کے ساتھ تال میل بٹھانے کی پوری کوشش کی لیکن یہ مشکل تھا۔ گھر کی چہار دیواری میں سمٹ کر رہ جانا اسے پسند نہیں تھا۔ اپنی مینجمنٹ کی ڈگری کا کوئی بھی استعمال نہ کر پانے کا دکھ اسے برابر ستاتا رہا۔  کچھ سالوں بعد اس نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے شوہر کو طلاق دے دیا۔ اس کا کنبہ صدمے میں تھا مگر اس نے مضبوطی دکھائی۔ جلد ہی اسے اپنے بل پر نوکری بھی مل گئی۔ شادی کے بعد بھی وہ سبھی نوجوان لڑکیوں کو معاشی طور پر خود مختار بننے کے لئے حوصلہ دیتی رہتی ہے۔ ’ اپنی بچت ہونا اچھی بات ہے۔ یہ آپ کو خود اعتمادی اور فخر کا احساس دلاتا ہے۔ یہ آج کی خواتین کے لئے ایک قیمتی صلاح ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ خواتین شادی کے بعد بھی نوکری کرنے پر زور دے رہی ہیں اور پیسہ کما رہی ہیں۔ اس سے انہیں زندگی میں آزادی، ایک مقصد اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔

آج کیرتنا اپنے ایک شریک اہلکار سے شادی کے بعد ایک خوشحال زندگی گزار رہی ہے اور ایک چھوٹے بچے کی ماں ہے۔ اس کے شوہر ایک پارٹ ٹائم نوکری کرتے ہیں اور زیادہ تر وقت گھر پر ہی رہتے ہیں اور اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہیں، دوسری طرف کیرتنا اسی ادارہ میں ایک اونچے عہدے پر ہے جہاں وہ اپنے شوہر سے ملی تھی۔ اپنے صنفی رول سے دور ہٹ کر کام کرنے سے دونوں کی زندگی آسان ہو گئی ہے۔ کیرتنا کو اپنی لیاقت اور ہنرمندی کو کھوج پانے میں مدد ملی جس نے اس کی عزت نفس کو بڑھانے میں کافی مدد کی۔ دوسری طرف، اس کے شوہر کو ہمیشہ بچوں سے پیار تھا اور وہ گھر کی دیکھ بھال میں کافی خوش ہے۔

’ مجھے کام کرنا پسند ہے لیکن میری حالیہ شادی کا بہترین پہلو یہ ہے کہ ہم کسی بھی مسئلہ پر کھل کر باتیں کرتے ہیں۔ ہندوستان میں زیادہ تر خواتین کو یہ سکھایا نہیں جاتا کہ انہیں اپنے ساتھی کے ساتھ کیسے بات کرنی ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ یہ مان لیا گیا ہے کہ فیصلے مردوں کو ہی لینے چاہئیں۔ لیکن یہ 21 ویں صدی ہے جہاں عورتوں کو رشتوں میں برابری کا حق ملنا چاہئے۔

بالآخر، کیرتنا سبھی نوجوان لڑکیوں کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہ شادی ایک مثبت چیز ہو سکتی ہے، صرف ایک مجبوری نہیں۔ ’ میں چاہتی ہوں کہ خواتین کسی بھی تعلق میں برابری کے ساتھ ساتھ خود پر دھیان دئیے جانے کی امید کریں۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ جانیں کہ اگر وہ اپنے شوہر سے زیادہ کما رہی ہیں تو یہ معمول کی بات ہے۔ عورتیں کام کر سکتی ہے اور مرد بچوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ میاں اور بیوی بچوں کے سامنے ایک دوسرے کے لئے ہمدردی دکھا سکتے ہیں۔ ہمیں ضابطوں سے بندھ کر رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی بھی رشتے میں صرف پیار اور ایک دوسرے کے لئے احترام سب سے زیادہ اہم ہے۔
First published: Feb 06, 2020 06:08 PM IST