ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ویلنٹائن ڈے 2020: مانع حمل پر بات چیت کیوں نہیں؟

بالغ ہونے سے پہلے شادی میں بندھ جانے والے جوڑوں کے لئے ان چاہا حمل بہت ہی مشکل پیدا کرتا ہے۔ یہ ان جوڑوں کو بھی مشکل میں ڈال دیتا ہے جو ڈیٹنگ اور پیار کے مختلف مرحلوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

  • RedWomb
  • Last Updated: Feb 13, 2020 06:03 PM IST
  • Share this:
ویلنٹائن ڈے 2020: مانع حمل پر بات چیت کیوں نہیں؟
بالغ ہونے سے پہلے شادی میں بندھ جانے والے جوڑوں کے لئے ان چاہا حمل بہت ہی مشکل پیدا کرتا ہے۔ یہ ان جوڑوں کو بھی مشکل میں ڈال دیتا ہے جو ڈیٹنگ اور پیار کے مختلف مرحلوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

ہندوستان میں نابالغ لڑکوں اور نابالغ لڑکیوں کی تعداد 25.30 کروڑ ہے۔ عالمی صحت تنظیم کے مطابق، 10 سے 19 سال کی عمر کے بچے نابالغ لڑکوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ تعداد دنیا کے کسی بھی ملک میں ان کی تعداد سے زیادہ ہے اور یہ جرمنی، جاپان اور اسپین کی کل آبادی کے برابر ہے۔ ان میں سے بھاری تعداد میں یہ نوجوان لڑکے، لڑکیاں جنسی طور پر سرگرم ہیں۔ دیگر ملکوں کی طرح ہندوستان میں بھی جنسی سرگرمی کی عمر نیچے چلی گئی ہے۔


ان میں سے زیادہ تر نوجوان اور تھوڑا زیادہ عمر کے بالغ، کالج جانے والے جنسی تعلق کے بارے میں کسی بھی طرح کی جانکاری ہونے کے بغیر ہی جنسی سرگرمی شروع کر دیتے ہیں۔ کنبے اور دوست احباب میں جہاں جنسی تعلق کے بارے میں چرچا ہونے کا امکان ہوتا ہے، وہاں بھی جس ایک بات کی قطعی چرچا نہیں ہوتی ہے وہ ہے حمل سے بچنے یا محفوظ جنسی تعلق کے بارے میں۔


کیا شادی شدہ ہیں تو محفوظ ہیں؟


ویسے ہندوستان میں بچوں( لڑکیاں جن کی عمر 18 سے کم ہے اور لڑکے جن کی عمر 21 سے کم ہے) کی شادی آج بھی عام بات ہے اور ملک میں آج بھی نوعمروں کی شادی کا فیصد 27 ہے۔ ان لوگوں کی جنسی سرگرمی اس کے فورا بعد بڑھ جاتی ہے اور اس بات کا امکان کم ہی ہوتا ہے کہ یہ لوگ مانع حمل اشیا کا استعمال کریں گے کیونکہ ان میں ایک تو جانکاری نہیں ہوتی اور دوسرے متبادل موجود ہوتے ہیں۔ پھر، ہمارے سماج میں لڑکیوں کے کنوارہ پن پر بہت ہی زور دیا جاتا ہے اور اس لئے لڑکیوں کی کم عمر میں ہی شادی کر دی جاتی ہے۔ پھر ان جوڑوں پر جلدی بچے پیدا کرنے کا دباؤ بھی ہوتا ہے۔



’’ میری جب شادی ہوئی تو میں 22 سال کا تھا اور وہ تقریبا 18 سال کی تھی۔ چار سال میں ہمارے تین بچے پیدا ہوئے۔ مانع حمل کے بارے میں میرے ذہن میں کئی غلط خیالات تھے جیسے کہ جو سچا مرد ہوتا ہے وہ کبھی کنڈوم کا استعمال نہیں کرتا۔ تیسرے بچے کے بعد میری بیوی کو مانع حمل کے بارے میں کچھ صلاح ملی اور صرف اقتصادی وجوہات سے ہم نے اس کا محدود استعمال کیا۔ اگر ہمارے کنبے میں کسی کو پتہ چل جائے کہ ہم نے اس طرح کی کسی چیز کا استعمال کیا ہے تو یہ ہمارے لئے بڑا مسئلہ پیدا کر دے گا‘‘۔


جنید، 28، دکاندار، اندور


بالغ ہونے سے پہلے شادی میں بندھ جانے والے جوڑوں کے لئے ان چاہا حمل بہت ہی مشکل پیدا کرتا ہے۔ یہ ان جوڑوں کو بھی مشکل میں ڈال دیتا ہے جو ڈیٹنگ اور پیار کے مختلف مرحلوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ چاہے آپ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، غیر محفوظ جنسی تعلقات کے نتائج نوجوان لڑکوں، لڑکیوں کو جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر بھگتنے پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان چاہا حمل ہو سکتا ہے، غیر محفوظ اسقاط حمل کرانا پڑ سکتا ہے اور ایچ آئی وی اور ایڈس جیسے عوارض لاحق ہو سکتے ہیں۔


 کچھ کرنے سے پہلے سوچیں


ہندوستانی سماج میں نوجوانوں پر کئی طرح کی پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے یہ لوگ مانع حمل اشیا کا استعمال نہیں کرتے اور غیر محفوظ جنسی تعلق میں پھنس جاتے ہیں۔ زیادہ تر نوجوان غیر متوقع اور غیر منصوبہ بند جنسی تعلق بناتے ہیں اور انہیں مانع حمل کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہوتی۔


زیادہ تر نوجوانوں کو مانع حمل اشیا بیچنے والے دکانداروں یا صحت عملہ سے ڈر لگتا ہے۔ پھر ان میں سے کئی لوگوں کے پاس اسے خریدنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے اور کسی اور دوا کے نام سے ہی یہ ڈر جاتے ہیں۔ عموما جنسی طور پر سرگرم نوجوانوں کو بھلے ہی وہ بالغ کیوں نہ ہوں، انہیں اپنے کنبہ والوں اور سرپرستوں کی مدد نہیں ملتی۔ اس لئے وہ سیکس کے بارے میں اپنی سبھی باتوں کو چھپا لیتے ہیں۔


ہندوستان کی نصف سے زیادہ آبادی تولید کے لحاظ سے سرگرم عمر ( 15-49 کی عمر) کے دوران ان چاہا حمل سے بچنے یا دو بچوں کے بیچ کافی وقت دینے کے لئے مانع حمل کے جدید طریقوں کا استعمال نہیں کرتی ہے۔ لہذا، تقریبا 4.5 کروڑ خواتین کسی بھی جدید مانع حمل طریقوں کا استعمال نہیں کرتی ہے۔


’’ میں نے کیمسٹ سے مانع حمل اشیا خریدی ہے لیکن میں اس بات کا خیال رکھتی ہوں کہ میں اسے خریدنے کے لئے دکان پر تب جاؤں جب وہاں کم سے کم کسٹمر ہوں۔ یہ ایک بہت ہی پریشانی میں ڈالنے والا تجربہ ہے۔ میں شرمندہ نہیں ہوں لیکن مجھے اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ کوئی جان پہچان کا شخص مجھے یہ خریدتے ہوئے دیکھ نہ لے۔ عموما میں نام نہیں بتاتی، کاغذ پر لکھ کر اسے کیمسٹ کو دے دیتی ہوں۔ وہ ہم کو کاغذ میں لپیٹ کر یہ دے دیتا ہے۔ اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا کہ آپ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ، کنڈوم خریدتے ہیں یا ایمرجنسی گولی، وہ آپ کی طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے سیکس کوئی شرمناک بات ہو اور کسی خاتون کے لئے تو یہ گناہ ہی ہے‘‘۔ شالنی، 22، آر جے، موہالی۔


 جنسی اور تولیدی صحت کی تعلیم کا اس طرح نظام ہونا چاہئے کہ یہ ایسے نوجوانوں کی ضرورتوں کا حل نکال سکے جنہوں نے اپنی جنسی سرگرمی ابھی ابھی شروع کی ہے اور ان کو بھی مدد پہنچا سکے جو پہلے سے ہی جنسی طور پر سرگرم ہیں۔


کئی بار کنبے کے بزرگ، زیادہ عمر کے کزن اور اپنے بھائی بہن، ماں۔ باپ کئی طرح کی منفی باتیں پھیلاتے ہیں جیسے کنڈوم کے استعمال سے نامردگی بڑھتی ہے، بانجھ پن سے جسمانی کمزوری آتی ہے، موٹاپا بڑھتا ہے اور جنسی طور پر سرگرم ہونے کی بات کو شرمناک بتانے سے نوجوان مانع حمل اشیا کی مدد لینے سے بچتے ہیں۔ کئی بار کچھ عمردراز لوگ ’ واپسی کے طریقے‘ ( جس میں انزال سے پہلے ہی عضو مخصوص کو شرمگاہ سے نکال لیا جاتا ہے) بتاتے ہیں یا پھر پرہیز کرنے کو کہتے ہیں لیکن یہ سب کارآمد نہیں ہوتے۔


زیادہ تر سماجی کارکنان اور سروے یہ بتاتے ہیں کہ متبادل طریقوں کے بڑھنے اور ان کی دستیابی کے سبب جنسی طور پر سرگرم خواتین اور مردوں خاص کر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو کافی آزادی ملی ہے۔ لیکن کئی آج بھی اس مسئلہ پر کسی طرح کی گفت وشنید کے بارے میں الگ رائے رکھتے ہیں۔ تولید انسانی کے حقائق کے علاوہ جنسی تعلقات کے بارے میں تفصیل، ہمارے اور ہمارے پارٹنروں کی صحت سے منسلک الگ الگ طرح کے جوکھم، مختلف طریوں سے جڑی اچھائیوں اور ان کی برائیوں کے بارے میں باتیں ضرور ہونی چاہئیں۔


First published: Feb 13, 2020 06:03 PM IST