ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

خود کو کرشن کا اوتاراور اپوزیشن کو دسشاسن بتانے پر کیشو موریہ تنقید کی زد میں

لکھنؤ : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اترپردیش یونٹ کے نومنتخب صدر کیشو پرساد موریہ کا وزیر اعظم نریندر مودی کے وارانسی پارلیمانی حلقہ کے پہلے دورے پر ان کو "کرشن اوتار" اور اپوزیشن لیڈروں کو دسشاسن کی شکل میں بتائے جانے سے سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 15, 2016 05:14 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
خود کو کرشن کا اوتاراور اپوزیشن کو دسشاسن بتانے پر کیشو موریہ تنقید کی زد میں
لکھنؤ : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اترپردیش یونٹ کے نومنتخب صدر کیشو پرساد موریہ کا وزیر اعظم نریندر مودی کے وارانسی پارلیمانی حلقہ کے پہلے دورے پر ان کو "کرشن اوتار" اور اپوزیشن لیڈروں کو دسشاسن کی شکل میں بتائے جانے سے سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

لکھنؤ : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اترپردیش یونٹ کے نومنتخب صدر کیشو پرساد موریہ کا وزیر اعظم نریندر مودی کے وارانسی پارلیمانی حلقہ کے پہلے دورے پر ان کو "کرشن اوتار" اور اپوزیشن لیڈروں کو دسشاسن کی شکل میں بتائے جانے سے سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔


مسٹر موریہ کے آج وارانسی دورے سے پہلے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے پوسٹر میں ان کو بھگوان کرشن، اتر پردیش کو دروپدي اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی  سربراہ مایاوتی، کانگریس نائب صدر راہل گاندھی، صوبے کے وزیر اعلی اکھلیش یادو، سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر لیڈر اعظم خاں اور آل انڈیا مجلس اتحاد مسلمین  کے صدر اسدالدین اویسی کو دسشاسن کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔


بی ایس پی سربراہ کو بدعنوانی، مسٹر گاندھی کو غربت اور بے روزگاری، مسٹر خان کو فرقہ واریت، مسٹر یادو کو غنڈہ راج اور مسٹراویسي کو ملک مخالف قوتوں کے نقیب کے  طور پر دکھایا گیا ہے۔


سوشل میڈیا پر یہ پوسٹر صحافی سے سیاستدان بنے وارانسی کے بی جے پی کارکن روپیش پانڈے کی طرف وائرل کیا گیا ہے۔ اس میں دیگر لوگوں کے علاوہ مسٹر مودی،  بی جے پی صدر امت شاہ اور خود روپیش کی تصویر ہے۔  پوسٹر میں کہا گیا ہے ’’كل يگُ میں کیشو صرف تبلیغ نہیں کرتے، میدان جنگ میں جنگ کرتے ہیں‘‘۔


مسٹر پانڈے نے ’’يواین آئی‘‘ کو فون پر اپنی کارروائی کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پوسٹر میں صوبے کے عام آدمی کے جذبات کو دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ اپوزیشن لیڈر ریاست کا الگ -لگ طریقے سے آبرو پامال کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے نئے ریاستی صدر کا ’نزول‘دشاسنوں سے لڑنے کے لئے ہوا ہے‘‘۔


ادھر، بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے اس پوسٹرپر براہ راست کسی طرح کا جواب دینے سےگریز کیا ہے۔  ایک سینئر لیڈر نے نام نہیں شائع کئے جانے کی شرط پر کہا، ’’اس پوسٹر میں ریاست کی اصل پوزیشن اور اپوزیشن رہنماؤں کے کارناموں کو اجاگر کیا گیا ہے۔


ریاست میں برسر اقتدار سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے اس پوسٹر پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بی جے پی کی معاشرے کو توڑنے والی فرقہ وارانہ سوچ کا نتیجہ  بتایا۔  اس فعل کی مذمت کرتے ہوئے پارٹی لیڈر دیپک مشرا نے کہا، ’’مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنے والی اس طرح کی کارروائی سے بی جے پی کا ذہنی دیوالیہ پن اجاگر ہو گیا ہے۔

First published: Apr 15, 2016 05:14 PM IST