உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گیان واپی مسجد معاملہ: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ضلع جج کے پاس کیا گیا ٹرانسفر

    گیان واپی مسجد معاملہ: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہوگی معاملے کی سماعت

    گیان واپی مسجد معاملہ: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہوگی معاملے کی سماعت

    گیان واپی مسجد سروے معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوگئی ہے۔ یہاں تین رکنی بینچ معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ وارانسی عدالت میں ابھی اس معاملے پر سماعت نہیں ہوگی کیونکہ سپریم کورٹ نے اس پر روک لگا رکھی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: گیان واپی مسجد سروے معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے معاملہ ڈسٹرکٹ کورٹ (ضلع جج) کو ٹرانسفر کردیا ہے۔ ساتھ ہی آٹھ ہفتے تک عبوری حکم جاری رہے گا۔ یعنی آٹھ ہفتے تک سبھی فریق اپنا موقف ڈسٹرکٹ جج کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ جولائی کے دوسرے ہفتے میں سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔

      سپریم کورٹ نے توازن بنانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ ڈسٹرکٹ کورٹ مسلم فریق کو اچھی طریقے سے سنے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اتر پردیش جوڈیشل سروس کے سینئر اور تجربہ کار عدالتی افسر کیس کی سماعت کریں گے۔ یہی نہیں سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کو آرڈر7 رول 11 معاملے کی سماعت 8 ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

      گیان واپی مسجد معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس وائی چندر چوڑ نے کہا کہ ہم حکم دے سکتے ہیں کہ نچلی عدالت مدعا علیہ کی درخواست پر فیصلہ کرے۔ تب تک ہمارا عبوری حکم جاری رہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اسے ضلع جج کو بھیجا جائے۔ ہندو فریق کے وکیل رنجیت کمار اور یوپی حکومت کےوکیل تشار مہتا نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ آپ آج اس معاملے کو مت سنئے، پیر یا منگل کے روز اس معاملے کی سماعت کرلیجئے۔

      وہیں مسلم فریق کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کو جان بوجھ کرلیک کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کمیشن کو غیرآئینی قراردیا گیا ہے۔ مسلم فریق نے یہ بھی کہا ہے کہ وضوخانے میں شیولنگ نہیں بلکہ فوارہ ہے۔ تاہم اگر معاملے کو وارانسی کورٹ جاتا ہے تو جوں کی توں صورتحال برقرار رہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ ہمارے پاس التوا میں رہے گا۔ ابھی ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار میں ہم مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن رپورٹ لیک نہیں ہونا چاہئے۔ ماحول خراب ہونے کے خوف سے متعلق سپریم کورٹ نے کہا کہ اب تک کی سماعت میں ہم نے وہی توازن اور بھائی چارہ بناکر رکھنے کی ہی کوشش کی ہے۔

      جج: اس عبوری نظام سے سبھی فریق کے مفاد محفوظ رہیں گے۔

      ویدھ ناتھن: اب حالات بدل چکے ہیں، رپورٹ آچکی ہے۔

      جج: اس لئے ہم ضلع جج کو معاملہ بھیجنا چاہتے ہیں۔ ان کو 25 سال کا تجربہ ہے۔

      جج: ہم حکم نہیں دیں گے کہ ضلع جج کس طرح کام کریں۔

      ویدھ ناتھن: پہلے انہیں رپورٹ دیکھنے کو کہا جائے۔ پھر مدعا علیہ کی درخواست پر سماعت کریں۔

      حذیفہ احمدی: اب تک سبھی احکامات قانون کے خلاف ہیں۔ انہیں منسوخ کیا جانا چاہئے۔ 

      جج: ہم آپ کی بات سمجھ گئے۔ آپ پہلے اپنی درخواست پر سماعت چاہتے ہیں۔

      جج: ہم نے ابھی تک جو احکامات دیئے ہیں، اس سے معاملے میں توازن بنائے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ 

      ویدھ ناتھن: سپریم کورٹ ضلع جج کو اس کا حکم نہ دے کہ مدعا علیہ کی درخواست پہلے سنیں۔

      جج: آپ دونوں اپنی بات ضلع جج کے سامنے رکھیں۔

      حذیفہ احمدی: اس طرح کے معاملے سماج میں بدامنی پھیلا سکتے ہیں۔ سروے کمیشن بننا ہی نہیں چاہئے تھا۔ مجھے اپنی بات رکھنے دیجئے۔ 

      سپریم کورٹ کی طرف سے سب سے بڑی بات یہ سامنے آئی ہے کہ ضلع عدالت یعنی وارانسی کورٹ میں پورا معاملہ چلے۔ تین رکنی بینچ نے کہا کہ ضلع جج کو ہم حکم نہیں دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پچیس سالوں کا تجربہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عبوری حکم جاری رہے گا۔

      مسلم فریق کے وکیل نے کہا کہ کمیشن کی تشکیل کیاجانا غیر آئینی ہے۔ ساتھ ہی رپورٹ کو میڈیا میں لیک کیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا ہے کہ جانچ کمیشن کی تقرری درست ہے یا نہیں، اس پر ایک پینل کی تقرری کی جا سکتی ہے۔

      اس سے قبل اسپیشل کورٹ کمشنر وشال سنگھ نے کہا ہے کہ میں نے پوری ایمانداری سے سروے کیا ہے اور عدالت میں پیش کردیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہماری رپورٹ میں شیولنگ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا ہے، لیکن ہاں دیواروں پر کچھ نشانات ضرور دکھائی دیئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریق کی جانب سے اپنے اپنے دعوے کئے گئے ہیں۔ اس کو میں نے واضح طور پر اپنی رپورٹ میں لکھ دیا ہے۔

      دریں اثناء سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت ہو رہی ہے۔ سماعت سے عین قبل، ہندو فریق نے ایک جواب داخل کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندو صدیوں سے اسی مقام پر اپنی رسم و رواج پر عمل پیرا ہیں۔ اورنگ زیب نے کوئی وقف قائم نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان میں اسلامی حکومت سے ہزاروں سال پہلے جائیداد آدی وشویشور کی تھی۔ بھگوان کی جائیداد کسی کو نہیں دی جا سکتی ہے۔ اورنگ زیب نے حکمران ہونے کے ناطے زبردستی قبضہ کر لیا تھا۔ اس سے مسلمانوں کو جائیداد کا حق نہیں مل جاتا ہے۔
      عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو ایک وکیل کے بیمار ہونے کی وجہ سے سماعت ملتوی کر دی تھی۔ ہندو درخواست گزاروں کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل نے کہا کہ وارانسی کی عدالت اب 23 مئی کو سماعت جاری رکھے گی۔

       مسجد کی انتظامی کمیٹی کے وکیل نے کہا کہ دونوں فریقین نے جمعرات کو ٹرائل کورٹ میں اپنے "اعتراض اور جوابی اعتراضات" دائر کیے ہیں۔ ان درخواستوں میں سے ایک جس کی اب 23 مئی کو سول کورٹ میں سماعت متوقع ہے، ایک عرضی ہے جس میں کاشی وشوناتھ مندر اور اس سے متصل گیان واپی مسجد کے درمیان دیوار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: